کشمیر میں اب طلبا نے مظاہرے شروع کر دیے

سری نگر: شوپیان ہلاکتوں کے خلاف چار روز تک جاری رینے والے احتجاج ، مظاہرے اور ہڑتالوں کے بعد حالات معمول پر آنے کے بعد کشمیریونیورسٹیوں کے طلبا نے مظاہرے اور احتجاج شروع کردیا۔
کشمیر یونیورسٹی کے سیکڑوں طلبا نے کیمپس میں جمع ہو کر احتجاج کیا۔طلبا بینر اٹھائے تھے ۔جن پر تحریر تھا” کشمیر میں نسل کشی بند کرو“، خونریزی بند کرو۔بتاہم مظاہروں کے دوران وادی کے کسی حصہ سے تشدد یا کسی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ان مظاہروں میں طالبات نے بھی حصہ لیا اور ہند مخالف نعرے لگائے۔
سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے کیمپس میں بھی ایسے ہی مظاہرے کیے گئے ۔سری نگر میں امر سنگھ ڈگری کالج اور بانڈی پورہ میں سوم بل ڈگری کالج کے کیمپسوں میں بھی احتجاج کیا گیا۔
دریں اثنا وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کنگن میں اس شخص کے گھر گئیں جس کا بیٹا گوہر احمد راٹھیر تین روز قبل مبینہ طور پر پولس فائرنگ میں مارا گیا تھا۔محبوبہ نے گوہر کے لواحقین سے کہا کہ اس واقعہ میں سلامتی دستوں میں سے جو بھی حد سے تجاوز کرنے کا ملزم پایا گیا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Student protests erupt in kashmir valley in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply