دفعہ 370اور35 اے سے کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی: نیشنل کانفرنس

سری نگر: جموں وکشمیر کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا کہ کشمیر دشمن عناصربھارتی آئین کی دفعہ 35 اے اور دفعہ370کو ختم کرنے کے لئے جس طرح سے آج دوڑ دھوپ کررہے ہیں وہ اہل ریاست کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے اور اتحاد و اتفاق ہی ہم اس چیلنج کا سامنا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاست کے تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ریاست کی پہچان، انفرادیت اور شناخت کے بچاؤ کے لئے آگے آنا چاہئے۔ ڈاکٹر مصطفےٰ کمال نے بدھ کو یہاں این سی پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی حامیوں اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’نئی دلی کو بھی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ دفعہ 35 اے اور 370کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ خوانی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے‘۔
.واضح رہے کہ سال 2014 میں ’وی دی سٹیزنس‘نامی ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں دفعہ 35A کو چیلنج کیا گیا۔ گزشتہ ہفتے پٹیشن پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عدالت میں دفعہ 35A کے موضوع کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر وسیع بحث چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں حلف نامہ پیش نہیں کرنا چاہتے۔ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔ دفعہ 35 اے دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ 1953 میں جموں وکشمیر کے اس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35A کو بھی شامل کیا گیا، جس کی ر?و سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sheikh mustafa kamals statement on article 370 and 35 a in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply