طالب علم کی ہلاکت کے خلاف کشمیر کے کئی علاقوں میں مکمل ہڑتال، سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں،

سری نگر: وادی کشمیر میں گذشتہ روزجنوبی ضلع شوپیان کے 19 سالہ نوجوان عادل فاروق ماگرے کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف جمعہ کومکمل ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔ ہڑتال کی کال علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی۔ انتظامیہ نے شوپیان کے نوجوان کی ہلاکت کے خلاف کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سری نگر کے 7 تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی اور باقی سبھی دیگر ضلعی ہیڈکوارٹروں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ احتیاطی تدابیرکے طور پر تمام تعلیمی اداروں کو بند او ریل خدمات کو معطل رکھا گیا ہے۔تیز رفتار والی فور جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو گذشتہ تین دنوں سے معطل رکھا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ضلع شوپیان کے گنہ پورہ میں 6 جون کی شام کو 19 سالہ عادل فاروق اس وقت جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے جب سیکورٹی فورسز نے گاؤں میںانسداد انتہا پسندی آپریشن میں رخنہ ڈالنے والے لوگوں پر فائرنگ کر دی تھی۔
عادل احمد گورنمنٹ ڈگری کالج شوپیان میں گریجویشن سال اول کا طالب علم تھا۔ انتظامیہ نے ہلاکت کے اس واقعہ کی پہلے ہی مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے ہیں۔ عادل کی ہلاکت کے خلاف جہاں 7 جون کو جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوں میں ہڑتال کی گئی تھی، وہیں ضلع شوپیان میں جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بھی ہڑتال کی گئی تھی۔ گذشتہ دو دنوں میں ہڑتال کے دوران قریب ڈیڑھ درجن مقامات پر پتھراو کے واقعات پیش آئے تھے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے ضلع سری نگر کے سات پولیس تھانوں بشمول پائین شہر کے خانیار، نوہٹہ، صفاکدل، ایم آر گنج، رعناواری اور سیول لائنز کے مائسمہ میں آج سیکورٹی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ضلعی ہیڈکوارٹروں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ 19 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف سری نگر کے پابندی والے علاقوں میں کسی بھی طرح کے احتجاجوں کو روکنے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ تمام سڑکوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے۔
نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے الزام لگایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں فورسز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ اس تاریخی مسجد کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ ادھر سول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کا گڑھ مانے جانے والے مائسمہ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بھی خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ مائسمہ میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرے کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے۔ ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کو تاریخی لال چوک سے جوڑنے والے امیرا کدل برج کو بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ ضلع شوپیان میں بھی نوجوان عادل فاروق کی ہلاکت کے خلاف کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ ضلع میں امن وامان کی فضا برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات رکھی گئی ہے۔ مختلف دیہات کو ضلع ہیڈکوارٹر سے جوڑنے والی سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔ .جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھرؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ دریں اثنا ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر وادی میں جمعہ کو ریل خدمات احتیاطی اقدامات کے طور پر معطل رکھی گئیں۔
تاہم جنوبی کشمیر سے گذرنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے معمول کے مطابق کھلی رہی۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے ریل خدمات کو آج احتیاطی اقدامات کے طور پر معطل رکھا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ مقامی اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے ہدایت پر لیا گیا تھا۔ مذکورہ ریلوے عہدیدار نے بتایا کہ ماضی میں تشدد کے واقعات کے دوران ریل گاڑیوں، ریلوے اسٹیشنوں اور لائٹنگ سسٹم کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔ وادی میں گذشتہ برس جولائی میں معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی شدید احتجاجی مظاہروں کے لہر کے سبب ریل سروس کم از کم چار ماہ تک معطل رہی تھی۔ تاہم ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران وادی میں ریل خدمات کو معطل رکھنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔ وادی میں جمعہ کو تمام تعلیمی ادارے احتیاطاً بند رکھے گئے۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Separatist strike restrictions disrupt life in kashmir in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply