سیکورٹی فورسز نے زبردست احتجاجی مظاہروں کے بعد شوپیان میں سرچ آپریشن روک دیا

سری نگر:جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں بدھ کے روز سیکورٹی فورسز نے لوگوں کی جانب سے شدید احتجاجی مظاہروں کے بعد جنگجو مخالف آپریشن روک دیاگیا۔ طرفین کے مابین جھڑپوں میں قریب دو درجن افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع شوپیان کے ہف شیرمال میں انتہاپسندوںکی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز نے مذکورہ علاقہ میں بدھ کی صبح تلاشی آپریشن شروع کیا۔ تاہم ہف شیر مال کے نواحی دیہات میں سینکڑوں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا شروع کردیا۔ جب احتجاجی لوگوں نے محاصرہ میں لئے گئے علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لئے پہلے لاٹھی چارج اور پھر آنسو گیس کا استعمال کیا۔ سیکورٹی فورسز کی کاروائی کے نتیجے میں لوگ مشتعل ہوئے اور غصہمیں پتھراؤ کرنے لگے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ قریب دو گھنٹوں تک جاری رہا۔ جھڑپوں میں قریب دو درجن افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ لوگوں کی جانب سے شدید احتجاجی مظاہروں کے بعد علاقہ میں شروع کردہ انتہا پسند مخالف آپریشن روک دیا گیا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے تلاشی کاروائی کے دوران کم از کم پانچ درجن شہریوں کو زدوکوب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ایک مقامی انتہا پسند افراد خانہ کو زدوکوب کرنے کے علاوہ ان کے موبائیل فون اپنی تحویل میں لئے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز نے درجنوں مکانات کی توڑ پھوڑ بھی کی۔

Title: search operation in south kashmir called off | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply