مرکزی حکومت نے الحاق کے وقت ہندوستان پر کیے گئے اعتماد کو چکنا چور کر دیا،سنگین نتائج بر آمدہوں گے:عمر عبداللہ

سری نگر: سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر و نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ کا حامل بنانے والی دفعہ370ختم کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کے یکطرفہ اور حیران کن فیصلوںسے عوام کے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے جو جموں و کشمیر کے لوگوں نے 1947میں ہندوستان کے ساتھ الحاق کے وقت ہندوستان پر کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان فیصلوں کے بڑے دور رس اثرات مرتب ہو ں گے۔اور خطرناک نتائج بر آمد ہوں گے۔یہ ریاست کے عوام کے خلاف جارحیت ہے ۔انہہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے حالیہ ہفتوں میں چوری چوری اور پوشیدہ طریقوں سے ان تباہ کن فیصلوں کی زمین ہموار کی اور بنیاد ڈالی۔حکومت ہند اور اس کے نمائندوں نے ہم سے جھوٹ بولا کہ کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنایا گیا ہے لیکن اسی کے بعد بد قسمتی سے ہمارے اندیشے درست ثابت ہو گئے۔

انہوں نے مزید ٹوئیٹ کیا کہ پوری ریاست خاص طور پر وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کرنے کے بعد اس صدارتی فرمان کا اعلان کیا گیا۔ہم لوگوںکو جو جموں و کشمیر کی جمہوری آواز ہیں قید کر دیا گیا تھا اور لاکھوں فوجیوں کو تعینات کر دیا گیا تھا۔دفعہ370ختم کرنے سے ریاست کے ہندوستان سے الحاق پر کئی بنیادی سوال ٹھتے ہیں۔

انہوںنے مزید کہا کہ یہ فیصلے یکطرفہ ،غیر قانونی اور غیر آئنی ہیں اور نیشنل کانفرنس انہیں چیلنج کرے گی۔ دفعہ 370 آئین ہند میں مذکور ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست ریاست جموں و کشمیر کو جداگانہ حیثیت دیتی ہے۔ یہ دفعہ ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ہے ۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں متحدہ مرکزی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر ہندوستانیقوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔ دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔

آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔اس دفعہ کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے بہت سے بنیادی امور جن میں شہریوں کے لیے جائداد، شہریت اور بنیادی انسانی حقوق شامل ہیں ۔ لیکن اب 370حذف کر دیے جانے سے غیر ریاستی باشندے کشمیر میں ہر قسم کی املاک خرید سکتے ہیں اور وہاں کی خواتین غیر کشمیریوں سے شادی کر سکتی ہیں ا س سے ان کے حقوق سلب نہیں ہوںگے۔

مہاراجا ہری سنگھ کے 1927 کے باشندگان ریاست قانون کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے چنانچہ ہندوستان کا کوئی بھی عام شہری ریاست جموں و کشمیر کے اندر جائداد نہیں خرید سکتا، یہ امر صرف بھارت کے عام شہریوں کی حد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہندوستانی کارپوریشنز اور دیگر نجی اور سرکاری کمپنیاں بھی ریاست کے اندر بلا قانونی جواز جائداد حاصل نہیں کر سکتی ہیں۔

اس قانون کے مطابق ریاست کے اندر رہائشی کالونیاں بنانے اور صنعتی کارخانے، ڈیم اور دیگر کارخانے لگانے کے لیے ریاستی اراضی پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی قسم کے تغیرات کے لیے ریاست کے نمائندگان کی مرضی حاصل کرنا ضروری ہے جو منتخب اسمبلی کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Revocation of article 370 to have dangerous consequences omar abdullah in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.