پلوامہ انکاؤنٹر24 گھنٹے بعد ختم،3 انتہا پسند ہلاک، فوجی میجر سمیت تین سیکورٹی اہلکار زخمی

سری نگر:جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے بامنو نامی گاؤں میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں سے جاری مسلح تصادم تین مقامی انتہا پسندوں کی ہلاکت اور چھ سئیکورٹی اہلکاروں کے زخمی ہوجانے کے ساتھ ختم ہوگیا تاہم کامبنگ آپریشن جاری ہے‘ ۔ اس طویل مسلح تصادم کے دوران جہاں سیکورٹی فورسز نے دو انتہا پسندوںکو پیر کے روز ہی ہلاک کر دیا تھا، وہیں تیسرے انتہا پسند کو ہلاک کرنے کے لئے مبینہ طور پر تین رہائشی مکانات کو دھماکہ خیزمواد سے اڑا دیاگیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق رہائشی مکان کو دھماکہسے زمین بوس کرنے کے بعد نذر آتش کردیا گیا۔
مذکورہ رپورٹ کے مطابق تیسرے اور آخری انتہا پسند کو ہلاک کرنے کے لئے پیرا کمانڈوز کی مدد بھی لی گئی جنہوں نے رہائشی مکانات میں دھماکہ خیز مادہ بچھایا۔دوسری جانب مسلح تصادم کے مقام اور اس کے گردونواح میں انتہا پسندوں کی مدد کے لئے سڑکوں پر نکل آنے والے لوگوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائی میںتقریباً تین درجن عام شہری زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چار زخمی نوجوانوں کو سری نگر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ پانچ احتجاجی نوجوان گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ مسلح تصادم میں مارے گئے سبھی تین انتہا پسند حزب المجاہدین سے وابستہ تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلح تصادم میں مارے گئے تیسرے جنگجو کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پیر کو ہلاک کئے گئے جنگجو کی شناخت جہانگیر احمد ساکنہ چک کلر پلوامہ اور کفایت احمد کانڈے ساکنہ بامنو پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام سے کچھ اسلحہ وگولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ میں ایک فوجی میجر اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس افسر سمیت 6 سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی سیکورٹی فورس اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورس اہلکار اس وقت زخمی ہوئے جب انتہا پسندوں نے محاصرہ توڑنے کے لئے دستی گرینیڈ پھینکے ۔

Title: pulwama encounter ends army kills 2 more terrorists | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply