کشمیر میں چوٹی کاٹنے والے کے شبہ میں ذہنی معذور کو زدو کوب کرنے کے بعد زندہ جلانے کی کوشش ،پولس نے بچایا

سری نگر: وادی کشمیر میں ڈیڑھ ماہ کے دوران نامعلوم افراد کے ہاتھوں خواتین کی جبری بال تراشی کے سو سے زائد واقعات رونما ہو چکے ہیںجس سے وادی بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مضبوط انٹیلی جنس نیٹورک کے لئے مشہور جموں وکشمیر پولیس جہاں ان واقعات میں ملوث افراد کا تاحال پتہ لگانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، وہیں گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران لوگوں کی جانب سے محض شبہ کی بنیاد پر درجنوں افراد بشمول سیکورٹی فورس اہلکاروں کی شدید پٹائی کے واقعات سامنے آئے۔
تازہ ترین واقعہ میں شمالی ضلع بارہمولہ کے ایپل ٹاون سوپور میں جمعہ کی صبح لوگوں کے ایک ہجوم نے یہ سمجھ کر ایک ذہنی طور پر معذور شخص کو شدید زدوکوب کے بعد زندہ جلانے کی کوشش کی، کہ وہ خواتین کے بال کاٹنے والا ہے۔ تاہم ریاستی پولیس نے مذکورہ شخص کو ہجوم کے ہاتھوں مزید نقصان پہنچائے جانے سے بچالیا۔ پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’سخت کاروائی کی ہدایت جاری ہوچکی ہے۔ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا‘۔ پولیس نے متاثرہ شخص کی شناخت وسیم احمد تانترے ولد غلام نبی تانترے ساکنہ شاکوارہ حال نوپورہ سوپور کے بطور کردی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص ذہنی طور پر معذور ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وسیم تانترے نے شراب پی رکھی تھی۔ سوپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ہرمیت سنگھ مہتا نے نامہ نگاروں کو واقعہ کے حوالے سے بتایا ’ہمیں ایک اطلاع ملی کہ مازبگ اور فروٹ منڈی کے بیچ میں جو علاقہ ہے، وہاں کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں اور وہ بال کاٹنے والے ایک شخص کی پٹائی کررہے ہیں۔ یہ پانچ سے آٹھ سو لوگوں پر مشتمل مجمع تھا۔ ایس ایچ او فروٹ منڈی ایک پولیس پارٹی کے ہمراہ وہاں پہنچے۔
اس کے بعد ایس ایچ او سوپور ، ایس ڈی پی او اور پولیس کی نفری وہاں پہنچی۔ ہم نے وہاں پر ہجوم کو منتشر کیا اور ہمیں معلوم ہوا کہ وہ (لوگ) پکڑے گئے نوجوان کو جلانے اور اس کے اوپر ٹریکٹر چلانے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس کی بروقت کاروائی کی بدولت مذکورہ نوجوان کو بچایا گیا اور اسپتال منتقل کردیا گیا‘۔ انہوں نے کہا ’اس نوجوان کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ بنیادی طور پر شاکوارہ بارہمولہ کا رہنے والا ہے اور نوپورہ سوپور میں بھی رہتا تھا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ متاثرہ نوجوان ذہنی طور پر معذور ہے اور اِدھر ا±دھر پھرتا رہتا ہے‘۔ ایس پی نے کہا کہ قصورواروں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم نے اس کی ایف آئی آر درج کرلی ہے۔
سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر کچھ ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی ہیں جن میں آگ اور لوگوں کو مذکورہ نوجوان کی پٹائی کرتے اور پھر اسے زندہ جلا دینے کی کوشش کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہم نے قصورواروں کی شناخت کرلی ہے اور انہیں جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا۔ متاثرہ نوجوان نہ شرابی ہے اور نہ اس نے شراب پی رکھی تھی‘۔ ہرمیت سنگھ نے لوگوں سے اپیل کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ انہوں نے کہا ’ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ اگر لوگوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا تو ہم سخت سے سخت کاروائی کریں گے۔ کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ تھانے میں آکر اپنی شکایت درج کرائے‘۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) بارہمولہ امتیاز حسین کا سوپور کے واقعہ کے حوالے سے کہنا ہے ’اگر پولیس وسیم کو نہ بچاتی تو (لوگوں) نے اسے زندہ جلا دیا ہوتا۔
وہ شدید طور پر زخمی ہوگئے ہیں اور اسے علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے‘۔۔ ایک دوسرے واقعہ میں سری نگر کے ڈل جھیل علاقہ میں لوگوں نے درگاہ حضرت بل میں فجر نماز کی ادائیگی کے لئے آنے والے ایک نمازی کو ’بال کاٹنے والا‘ سمجھ کر نہ صرف شدید طور پر زدوکوب کیا بلکہ پانی میں ڈبوکر ہلاک کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ دونوں واقعات کی ویڈیوز سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہوگئی ہیں۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Police registers fir after mob tries to set ablaze mentally deranged in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply