جموں وکشمیر پولس نے یوم آزادی پر سیاہ پرچم لہرانے کی کوشش ناکام بنادی ، ممبر اسمبلی گرفتار

سری نگر :جموں وکشمیر پولیس نے منگل کے روز عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے سربراہ و ممبر اسمبلی لنگیٹ (شمالی کشمیر) انجینئر شیخ عبدالرشید کی جانب سے سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یوم آزادی کی تقریب کے موقع پر ’سیاہ پرچم‘ لہرانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے انہیں (انجینئر رشید کو) اپنے دو درجن حامیوں کے ساتھ گرفتار کرکے پولیس تھانہ راج باغ منتقل کردیا۔ پولیس نے اے آئی پی کے بخشی اسٹیڈیم تک مارچ کو ناکام بنانے کے لئے لاٹھی چارج بھی کیا جس کے نتیجے میں پارٹی کے متعدد کارکن زخمی ہوگئے۔پارٹی نے 15 اگست کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی کے ایک ترجمان نے کہا ’سخت ترین بندشوں کو توڑتے ہوئے اے آئی پی کے درجنوں کارکنوں نے منگل کے روز انجینئر رشید جو کہ اپنے گھر میں نظر بند رکھے گئے تھے، کے گھر کے مین دروازے کو زبردستی کھول کر ایک زوردار احتجاجی مارچ نکالا‘۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ کارکنوں نے رائے شماری کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے بخشی اسٹیڈیم کی طرف بڑھنے کی کوشش کی، لیکن پولیس کی بھاری جمعیت نے طاقت کا استعمال کرکے کارکنوں کو منتشر کیا ور انجینئر رشید سمیت دودرجن کے قریب کارکنوں کو گرفتار کرکے راج باغ تھانہ پہنچا دیا۔ ترجمان نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے طاقت کے استعمال سے تین کارکن زخمی ہوئے جن میں سے دو کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ گرفتاری سے قبل انجینئر رشید نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا تقریر میں کشمیر کے حوالے سے بیان اپنے پیش رو وں سے ذرہ بھر بھی مختلف نہیں اور صرف الفاظ کا تغیر و تبدل کرکے بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔انجینئر رشید نے کہا ’مودی جی کا کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کرنا نرسہما راؤ، اٹل بہاری باجپئی، من موہن سنگھ اور دوسرے ہندوستانی لیڈروں کی طرح دلوں کو بہلانے والی باتوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔
انجینئر رشید نے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس سربراہ عمر عبداللہ پر غیر مستقل مزاج ہونے اور دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں کہا کہ ان کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ پچھلے سال 15اگست کی تقریب کا انہوں نے بائیکاٹ کیوں کیا تھا اور اب اس بار کس چیز نے انہیں اپنی پارٹی کی ساری قیادت سمیت بخشی اسٹیڈیم کی زینت بنانے کے لئے آمادہ کیا۔ انجینئر رشید نے کہا ’حقیقت یہی ہے کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ سے ہی دوہرے معیاروں کا شکار رہی ہے۔ گزشتہ برس عوامی مزاحمت کے دباؤ میں این سی قیادت نے خود کو عوام کے ساتھ وابستہ کرنے کا ڈھونگ رچا یا اور اس سال آزادی پسند قیادت کو مشکلات کے بھنور میں پاکر اب یہ جماعت نئی دلی کے اشاروں پر ناچ رہی ہے۔ عمر عبداللہ نے یہ کہہ کر کہ حریت قیادت کو دفعہ 35 اے میں مداخلت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اتحاد کی کوششوں کو شدید زک پہنچایا۔ ا±ن کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ایک بار پھر موقعہ پرستی ، استحصالی سیاست اور اقتدار کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہیں۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Police foils aips attempt to hoist black flags at bakshi stadium in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply