تین روز کے بعد دو تہائی وادی کشمیر میں معمولات زندگی بحال

سری نگر: وسطی کے بڈگام اور گاندربل اضلاع کے کچھ حصوں کو چھوڑ کر وادی کے دیگر آٹھ اضلاع میں بدھ کے روز معمولات زندگی تین روز بعد بحال ہوگئے۔ وادی میں جہاں 9 اپریل کو علیحدگی پسند قیادت کی کال پر سری نگر کی پارلیمانی نشست پر ضمنی انتخابات کے تحت پولنگ کے خلاف ہڑتال کی گئی، وہیں 10 اور 11 اپریل کو پولنگ کے دوران ہونے والی 8 شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی۔ دارالحکومت سری نگر کے علاوہ جنوبی و شمالی کشمیر کے تمام بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بدھ کی صبح دکانیں اور تجارتی مراکز کھل گئے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہوئی۔ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔
تاہم وسطی کشمیر کے دو اضلاع بڈگام اور گاندربل کے کچھ حصوں میں آج مسلسل چوتھے دن بھی ہڑتال رہی جس کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ .خیال رہے کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں 9 اپریل کو سری نگر کی پارلیمانی نشست کے لئے ضمنی انتخابات کے تحت پولنگ کے دوران آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین بدترین جھڑپوں میں 8نوجوان ہلاک جبکہ قریب 150 دیگر زخمی ہوگئے۔ جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ضلع بڈگام میں 7 جبکہ ضلع گاندربل میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا۔یہ ہلاکتیں مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے آزادی حامی مظاہرین کے خلاف بے تحاشہ طاقت کے استعمال کے سبب ہوئی ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ضلع بڈگام وادی کا سب سے پرامن ضلع مانا جاتا تھا۔ وادی کی انتخابی تاریخ میں اب تک کی بدترین آزادی حامی جھڑپوں کے بیچ ہونے والے ضمنی انتخابات میں پولنگ کی شرح محض 7 اعشاریہ 14 ریکارڈ کی گئی۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں سری نگر پارلیمانی حلقہ میں 26 فیصد ووٹ پڑے تھے۔اس طرح سے گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں پولنگ کی شرح 19 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Normalcy restored in kashmir valley in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply