جموں و کشمیر میں حکومت نام کی کوئی شے نہیں ہے: نیشنل کانفرنس

جموں:نیشنل کانفرنس ممبران نے منگل کے روز یہ کہتے ہوئے ریاستی قانون ساز اسمبلی سے احتجاجاً واک آوٹ کیا کہ حکومت وادی کشمیر میں برف باری سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی ہے۔ منگل کی صبح جوں ہی ایوان کی کاروائی شروع ہوئی تو نیشنل کانفرنس سے وابستہ ممبران اپنی سیٹوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور حکومت مخالف نعرے بازی شروع کرنے لگے۔ این سی ممبران نے کہا کہ برف باری کی وجہ سے اہلیان وادی کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور حکومت میں کسی کو بھی ان کی فکر نہیں ہے۔
احتجاجی ممبران نے کہا ’بجلی کے بحران، راشن کی قلت اور نامعقول طبی سہولیات نے اہلیان وادی کی زندگی اجیرن بنادی ہے لیکن ضلع انتظامیہ لوگوں کو راحت پہنچانے کے کوئی اقدامات نہیں اٹھارہی ہے‘۔این سی ممبران نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے عوام کو راحت پہنچانے کے لئے کوئی پیشگی اقدامات نہیں اٹھائے تھے۔ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے این سی ممبران کے احتجاج کے جواب میں کہا کہ حکومت نے لوگوں کے لئے سبھی انتظامات کئے ہیں اور 80فیصد برف والے علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال کی جاچکی ہے۔
این سی ممبران نے بعدازاں ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔ این سی جنرل سکریٹری و ممبر اسمبلی علی محمد ساگر نے بعد ازاں ایوان کے باہر میڈیا کے اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے پی ڈی پی، بی جے پی حکومت کو غیرسنجیدہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں زمینی سطح پر حکومت کا کہیں نام ونشان ہی نہیں ہے۔ اس سے قبل این سی ممبر دیویندر سنگھ رانا نے فوج کی جانب سے گذشتہ رات نگروٹہ حلقہ انتخاب میں کی گئی فائرنگ کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جموں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: National conference stages walk out from assembly in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply