کشمیر میں کرفیو اور ہڑتال چھٹے روز میں داخل ، موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات بدستور معطل

سری نگر: وادی کشمیر میں حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پورے جنوبی کشمیر اور رایستی دارالخلافہ سری نگر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو برقرار ہے جبکہ وادی کے باقی حصوں میں جمعرات کو مسلسل چھٹے روز بھی مکمل ہڑتال جاری رہی۔
کرفیو زدہ علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو اشیائے ضروریہ خاص طور پر دوھ اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب وادی کشمیرمیں موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات کی معطل بھی آج چھٹے دن میں داخل ہوگئی۔ تاہم سری نگر جموں قومی شاہراہ پر شبانہ ٹریفک کی آمدورفت جاری ہے۔ اس شاہراہ اور تاریخی مغل روڑ پر 10 اور 11 جولائی کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رکھی گئی تھی۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا وہ سبھی گاڑیاں جو بدھ کی دوپہر جموں سے وادی کے لئے روانہ ہوئی تھیں، رات کے وقت یہاں پہنچیں۔
انہوں نے بتایا کہ اِن میں امرناتھ یاتریوں کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امرناتھ یاتریوں کی گاڑیوں کو براہ راست بال تل بیس کیمپ کی طرف روانہ کیا گیا، اور سیکورٹی وجوہات کی بناپر کسی بھی گاڑی کو جنوبی کشمیر میں واقع ننون پہل گام بیس کیمپ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مذکورہ افسر نے مزید بتایا کہ اگرچہ شاہراہ پر عائد تمام پابندیاں ہٹالی گئی ہیں، تاہم جنوبی کشمیر میں پائی جانے والی کشیدہ صورتحال کے مدنظر لوگ دن کے اوقات میں اس شاہراہ پر سفر کرنا نہیں کر رہے۔
دریں اثنا وادی میں موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات کی معطل بھی آج چھٹے دن میں داخل ہوگئی۔ وادی میں تمام موبائیل سروس پرووائڈرس نے سیکورٹی انتظامیہ کی ہدایات پر 8 اور 9 جولائی کی درمیانی رات سے موبائیل انٹرنیٹ خدمات تاحکم ثانی بند کردیں۔ تاہم موبائیل فون سروس ، براڈ بینڈ و فکسڈ لائن انٹرنیٹ خدمات کے علاوہ مختصر پیغام سروس (ایس ایم ایس) سروس جاری رکھی گئی ہیں۔ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے باعث صارفین خاص طور پر طلبا ، سیاحوں ، پیشہ ور افراد خاص طور پر صحافیوں اورتاجروں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
مقامی ، قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لئے کام کرنے والے صحافی جو اپنی رپورٹیں بھیجنے کے لئے مکمل طور پر موبائیل انٹرنیٹ پر منحصر تھے کا کام متاثر ہورہا ہے اور اِن میں سے بیشتر کو اب سری نگر میں اپنے دفاتروں میں ہی قیام کرنا پڑ ا ہے۔ موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل رہنے کی وجہ سے جہاں صارفین کو شدید مشکلات کے ساتھ ساتھ نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے کیونکہ اِن کے ڈیٹاپیک کی معیاد بغیر استعمال کے ختم ہوجاتی ہے، وہیں یہ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں کا بھی دعویٰ ہے کہ انٹرنیٹ خدمات معطل رہنے کی وجہ سے انہیں کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے تو انٹرنیٹ سروسز کو معطل رکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے اور دوئم اگر حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا جاتا ہے تو انہیں ایسے موقعوں پر صرف اِن ہی ویب سائٹس کو بند کروانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس معطل کرکے کشمیری عوام کو بابا آدم کے زمانے میں دھکیلنا ریاستی حکومت کا روزمرہ کا دستور بن گیا ہے۔ موبائیل انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے عہدیدار نے بتایا کہ انہیں سیکورٹی انتظامیہ کی جانب سے موبائیل انٹرنیٹ خدمات تاحکم ثانی بند رکھنے کی ہدایات ملی ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ انہیں خدمات بند رکھنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام کسی بھی طرح کی افواہوں کو روکنے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال میں بہتری آنے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ خدمات بحال کردی جائیں گی۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس کو آج چھٹے دن بھی معطل رکھا گیا۔
ریلوے ایک افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں ریل سروس سیکورٹی خدشات کے پیش نظرپر آج چھٹے دن بھی معطل رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے ٹریک اور دیگر ریلوے املاک کو جنوبی کشمیر میں کچھ ایک مقامات پر نقصان پہنچایا گیا ہے اور وادی میں امن وامان کی بحالی کے بعد بھی ریل سروس کو بحال کرنے میں مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں بھی ہڑتالوں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا، اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔(یو ا ین آئی)

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Mobile internet services continue to remain suspended in kashmir for the sixth consecutive day in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply