کپواڑہ میں مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں طالبعلم کی ہلاکت کی مجسٹریٹی جانچ کا حکم جاری

کپواڑہ :شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ڈپٹی کمشنر نے اس مبینہ فرضی جھڑپ کی جس میں شاہد احمد میر نام کے بی اے سال دوم کا ایک طالب علم ہلاک کر دیا گیا مجسٹریٹی تحقیقات کے احکامات صادر کئے ہیں۔ مبینہ فرضی جھڑپ میں ہلاک کئے گئے نوجوان طالب علم شاہد احمد میر کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ ڈگری کالج ہندوارہ میں بی اے سال دوم میں زیر تعلیم تھا۔ خیال رہے کہ فوج نے 22 اگست (منگل کے روز) ہندواڑہ کے ہفروڈہ جنگل میں ایک مسلح تصادم کے دوران ایک نامعلوم انتہاپسند کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
تاہم محض ایک روز بعد تارت پورہ ہندواڑہ کے رہنے والے بشیر احمد میر نے فوج کی جانب سے انتہاپند قرار دیے گئے نوجوان کی شناخت اپنے لاپتہ بیٹے شاہد احمد میر کے بطور کردی۔ ذرائع نے بتایا کہ ہفروڈہ جنگل میں ایک انتہاپسند کی ہلاکت کا دعویٰ کرنے کے ایک روز بعد فوج نے انتہاپسند قرار دیے گئے نوجوان کی لاش پولیس تھانہ ویلگام کے حوالے کی جہاں بشیر احمد میر نے پہلے ہی اپنے بیٹے کی گمشدگی کی اطلاع درج کرادی تھی۔ انہوں نے بتایا ’فوج کی جانب سے انتہاپسند قرار دیے گئے نوجوان کی شناخت شاہد احمد میر کے بطور ہونے کے ساتھ ہی گذشتہ شام مہلوک نوجوان کے آبائی علاقہ تارت پورہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے جن کا سلسلہ رات بھر جاری رہا‘۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Magisterial probe ordered into youths killing in kupwara in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply