کشمیر کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں،عام زندگی110ویں روز بھی درہم برہم

سری نگر: وادی کشمیر کی مجموعی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے جہاں کاروباری اور دیگر سرگرمیاں بدھ کو مسلسل 110 ویں دن بھی مفلوج رہیں۔ وادی کی سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت بدستور معطل ہے ، تاہم نجی گاڑیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ وادی کے کسی بھی حصے میں بدھ کو کرفیو نافذ نہیں رہا۔
البتہ احتیاطی اقدامات کے طور پر جنوبی کشمیر کے اننت ناگ اور پلوامہ اور وسطی کشمیر کے گاندربل میں پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ وادی کے تقریباً تمام حصوں بشمول گرمائی دارالحکومت سری نگر میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی اضافی نفری بدستور تعینات رکھی گئی ہے۔ وادی بھر میں ہڑتال کے باعث دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ تعلیمی ادارے سنسان پڑے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب کل جماعتی وفد کے دورہ کشمیر کی ناکامی کے بعد منگل کو نئی دہلی سے ایک پانچ رکنی وفد وادی میں گذشتہ ساڑھے تین ماہ سے جاری بحران کو ختم کرنے کے لئے سری نگر پہنچا جس نے اپنے دورے کے پہلے دن حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی و میرواعظ مولوی عمر فاروق ، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ و حریت (گ) لیڈر شبیر احمد شاہ ، مسلم کانفرنس چیئرمین پروفیسر عبدالغنی کے ساتھ ملاقات کی، لیکن جے کے ایل ایف چیئرمین محمد یاسین ملک نے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Life remains affected in kashmir valley in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply