کشمیر میں پہلا غیر کشمیری انتہاپسند سندیپ کمار سیکورٹی فورسز کے نرغہ میں

سری نگر: وادی کشمیر میں اپنی نوعیت کے پہلے واقعہ میں ریاستی پولیس نے دہشت پسند تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ ایک غیرریاستی انتہا پسندکو گرفتار کرلیا ہے۔ جس کی شناخت سندیپ کمار شرما ساکن مظفر نگر اترپردیش کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سندیپ کمار یکم جولائی کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے دیالگام میں مارے گئے لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر بشیر لشکری کا قریبی ساتھی تھا۔ پولیس کے مطابق گرفتار شدہ غیرریاستی انتہا پسند مختلف بینک ڈکیتیوں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔ سیکورٹی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وادی میں1990 عشرے میں شروع ہوئی مسلح شورش کے دوران کسی غیر ریاستی انتہا پسند (جموں وکشمیر کو چھوڑ کر ہندوستان کی کسی دوسری ریاست کے شہری) کی گرفتاری کا پہلا واقعہ ہے۔ انہوں نے غیر ریاستی شہری کے وادی میں انتہاپسندانہ سرگرمیوں میں ملوث رہنے کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وادی میں کام کررہے غیر ریاستی مزدوروں کی تعداد 5 سے 7 لاکھ کے درمیان ہے۔ ان میں سے بیشتر مزدوروں کا تعلق شمالی ہندوستان کی ریاستوں اترپردیش اور بہار سے ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے پیر کو یہاں ایک نیوز کانفرنس میں لشکر طیبہ کے انتہا پسندسندیپ کمار کی گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ لشکر طیبہ دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے غیرمسلم نوجوانوں کو کشمیر میں بینک ڈکیتیوں اور انتہاپسندانہ سرگرمیاں انجام دینے کے لئے استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو اب وادی میں غیرریاستی مزدوروں کی نگرانی بڑھانی ہوگی۔ آئی جی پی نے کہا ’لشکر طیبہ ماڈیول سے وابستہ دو افراد سندیپ کمار شرما عرف عادل ساکن مظفر نگر یو پی اور منیب شاہ ساکن کولگام کو گرفتار کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’جرائم پیشہ افراد اپنے ذاتی اغراض کے لئے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ یہ امر باعث تشویش ہے ۔ منیر خان نے کہا کہ شرما سیکورٹی فورسز پر ہوئے مختلف حملوں کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا ’ وہ گذشتہ ماہ (جون) کی 16 تاریخ کو ضلع اننت ناگ کے اچھہ بل میں ریاستی پولیس کی ایک پارٹی پر کئے گئے گھات حملے میں بھی ملوث تھا‘۔ گھات لگا کر کیے گئے اس حملے میں اسٹیشن ہاوس آفیسر (ایس ایچ او) اچھہ بل فیروز احمد ڈار کے سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ آئی جی پی نے کہا کہ سندیپ شرما گذشتہ ماہ کی 3 تاریخ کو سری نگر جموں قومی شاہراہ پر لور منڈا قاضی گنڈ کے مقام پر فوجی قافلے پر کئے گئے حملے میں بھی ملوث تھا۔
اس حملے میں فوج کا ایک اہلکار جاں بحق ہوا تھا۔ انہوں نے کہا ’شرما انتہاپسندوںکے اس گروپ کا بھی حصہ تھا جس نے 13 جون 2017 کو اننت ناگ کے آنچی ڈورہ میں ہائی کورٹ کے ریٹائیرڈ جج کی رہائش گاہ میں قائم پولیس گارڈ روم سے ہتھیار اڑا لئے تھے‘۔ منیر خان نے کہا کہ شرما متعدد انتہاپسندانہ کاروائیوں کے علاوہ جنوبی کشمیر میں قریب آدھ درجن بینک و اے ٹی ایم ڈکیتیوں میں ملوث تھا۔ آئی جی پی نے سندیپ شرما کی گرفتاری کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان 17 یرغمالیوں میں شامل تھا جن کو پولیس نے یکم جولائی کو دیالگام اننت ناگ میں ہوئے مسلح تصادم کے دوران بچالیا تھا۔انہوں نے کہا ’ہمیں غیر مقامی شہری (سندیپ شرما) کی اس جگہ موجودگی پر شک ہوا جہاں لشکر طیبہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے پناہ لے رکھی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران شرما نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ وہ لشکر طیبہ ماڈیول کا حصہ تھا‘۔ آئی جی پی نے کہا کہ شرما سال 2012 میں کشمیر آیا اور ایک ویلڈر کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔
تاہم وہ لشکر طیبہ میں شامل ہونے سے قبل شبیر احمد نامی ایک مقامی نوجوان کے رابطے میں آگیا۔ انہوں نے کہا کہ شرما لشکر طیبہ سے وابستہ رہنے کے دوران انتہاپسندانہ سرگرمیوں میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سندیپ کمار یکم جولائی کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے دیالگام میں مارے گئے لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر بشیر لشکری کا قریبی ساتھی تھا۔ ریاستی پولیس نے بشیر لشکری کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا تھا۔ اکتوبر 2015 میں لشکر طیبہ کی صفوں میں شامل ہونے والے بشیر لشکری کو انتہاپسندوں سے متعلق اے پلس پلس زمرے میں رکھا گیا تھا۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Let terrorist sandeep kumar sharma from up arrested in kashmir in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply