کشمیر کے لوگوں کا اردو زبان و ادب سے عشق باعث مسرت: شیخ عقیل احمد

سرینگر:کشمیر کی عوام کتاب دوست ہے اور یہاں کے لوگ اردو زبان و ادب سے محبت کرتے ہیں۔کتابوں سے ان کی محبت اور دوستی دیکھ کر ہمیں بے حد خوشی ہورہی ہے۔یہ باتیں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹرڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے یونیورسٹی آف کشمیر کی علامہ اقبال لائبریری کے سبزہ زار میں جاری کل ہند اردو کتب میلے کے تناظر میں کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ قومی اردو کونسل اپنے کمپیوٹر مراکز اور پیپر ماشی کے مراکز کے قیام میں کشمیر کو ترجیح دیتی ہے کیوں کہ یہاں ہمیں زبان و ادب اور ٹکنالوجی کے میدان میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم مستقبل میں مزید مراکز کے قیام کی کوشش کریں گے۔واضح ہوکہ کل ہند اردو کتب میلے کا آج آٹھواں دن ہے اور کل اس کا اختتام ہوگا۔میلے میں کتابوں کی فروخت اور یہاں کے لوگوں کا خلوص اور کتابوں کے تئیں دلچسپی دیکھ کر سبھی ناشرین کتب اور تاجرین کتب خوش ہیں اور وہ وادی میں دوبارہ بھی آنا چاہتے ہیں۔ یہاں کی اردو آبادی بھی میلے کے اہتمام سے خوش ہے اور کئی افراد نے اس طرح کے میلوں کے دوبارہ انعقاد پر زور دیا ہے۔

آج سرینگر اور مضافات کے مختلف اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ اور طلبہ کتاب میلے میں آئے اور کتابیں خریدیں ۔ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین،بارہمولہ،گورنمنٹ ڈگری کالج ، چرار شریف،گورنمنٹ ڈگری کالج،پانپور، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ،اننت ناگ،گورنمنٹ ڈگری کالج، کنگن،گورنمنٹ ڈگری کالج، پٹن،گورنمنٹ گرلز ہائر سکنڈری اسکول،رعنا واری،گورنمنٹ گرلز ہائر سکنڈری اسکول، مجہ گنڈوغیرہ کے طلبہ و اساتذہ نے آج میلے میںشرکت کی۔کونسل کے ڈائرکٹر نے سبھی طلبہ کا استقبال کیا اور قومی اردو کونسل کی مختلف سرگرمیوں سے واقف کرایا۔

میلے کے ساتھ ثقافتی تقریبات بھی جاری ہیں۔آج نظامت فاصلاتی تعلیم جامعہ کشمیر کے زیرِ اہتمام اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اشتراک سے ابن خلدون آڈیٹوریم ، علامہ اقبال لائبریری میں ”کلاسیکی شعری اصناف کی عصری معنویت“ کے عنوان سے ایک ادبی سمپوزیم کا انعقاد عمل میںآیا۔ اس سمپوزیم میں نظامت فاصلاتی تعلیم ، جامعہ کشمیر سے وابستہ ایم ۔اے ۔اردو کے طلبہ کے ساتھ ساتھ ریسرچ اسکالروں نے بھی مقالات پیش کیے ۔ان میں مسرت حمید ، عمر نبی ، شبنم جان ، اسماءبدر ، توصیف احمد ڈار ، عابد نور الامین ،عمر نبی وانی ،شازیہ جان ،نرگس رسول شامل ہیں ۔نظامت قیصر الحق نے کی ۔ ڈاکٹر الطاف انجم نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ساتھ ہی کلاسیکی اصناف سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔اس سمپوزیم میں قومی کونسل برائے فروغِ اُردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد، معروف ادیب و دانشور پروفیسر محمد زماں آزردہ ، ڈاکٹر محمد یوسف، ڈاکٹر محمد الطاف نقشبندی ،ڈاکٹر محمد امتیاز احمد اور ڈاکٹر عبد الحی ایوان صدارت میں موجود تھے۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمدنے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے سمپوزیم طلبہ کی تربیت کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انھوں نے اس طرز کے پروگراموں کے انعقاد پر زور دیا ۔مقررین نے ڈاکٹر الطاف انجم اور ڈاکٹر عرفان عالم کو اس طرح کے پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دی۔

آج سہ پہر نظامت فاصلاتی تعلیم ، کشمیر یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام اور قومی کونسل برائے فروغِ اُردو زبان ، نئی دہلی کے اشتراک سے ایک ادبی مجلس ” بزمِ شعر “ کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں ریاست کے مختلف علاقوں سے نو آموز شعرا حضرات نے شرکت کی اور اپنے کلام سے نوازا۔ان میں عرفان عالم،عابد نورالامین، اسرار جاوید ، صابر شبیر بڈگامی، ہلال احمد ، محمد یونس ، ظہور تنویر ، ذاکر عنایت ، معراج الدین ، راشف اعظمیٰ، عنایت فہیم ، ظہیر تنویر وغیرہ شامل ہیں۔اس مجلس میں جناب عاصم اسدی بطور مہمانِ خصوصی شامل رہے جبکہ جناب خیال لداخی نے بزم شعر کی صدارت کی۔جامعہ کشمیر کے مختلف شعبہ جات کے ساتھ ساتھ کئی کالجوں کے طلبا و طالبات بھی اس مجلس میں موجود تھے ۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Kashmiris love urdu language a lot in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.