فوجی میجر کو میڈل دیے جانے سے کشمیری علیحدگی پسند برہم

سری نگر:(یو ا ین آئی) کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کشمیری نوجوان کو جیپ سے باندھنے کے واقعہ میں ملوث فوجی میجر لیٹول گوگوئی کو فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بپن راوت کی طرف سے میڈل دیے جانے پر زبردست افسوس اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔مسٹر گیلانی نے کہا کہ مذکورہ فوجی میجر نے ایک نہتے شہری کو جیپ سے باندھ کر ایک سنگین قسم کا جنگی جرم کیا ہے اور تمغہ دیے جانے سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فعل نہیں تھا، بلکہ یہ وہ سیٹ پالیسی ہے، جس پر ہندوستان فوج جموں کشمیر میں عمل کررہی ہے اور جس کے باعث اس خطے میں انسانی زندگیاں زبردست خطرات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے عالمی عدالت انصاف سے اپیل کی کہ وہ نہتے شہری کو انسانی ڈھال کے طور استعمال کرنے کے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لے اور جنگی جرم میں ملوث فوجی افسر کے بارے میں اپنے طور سے ا±سی طرح فیصلہ صادر کرے، جس طرح سے ا±س نے کل بھوشن یادو کے بارے میں کیا ہے۔
منگل کو یہاں جاری ایک بیان میں حریت چیرمین نے عام شہری کو جیپ سے باندھنے کے بارے میں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری مسٹر رام مادھو اور دوسرے لیڈروں کے اس بیان کو انتہائی افسوسناک اور خلاف واقعہ قرار دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ’ میجر گوگوئی نے جوان کو جیپ سے باندھ کر کئی قیمتی زندگیوں کو بچایا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے بیروہ کے نوجوان کو جس وقت گرفتار کیا اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد جیپ سے باندھا، اس وقت اس علاقے میں حالات بالکل پرسکون تھے اور ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا، جس سے انسانی زندگیوں کو کوئی خطرہ درپیش ہوتا۔ یہ ایک فرضی کہانی ہے، جو فوجی میجر کے سنگین جرم کو چھپانے کے لیے گھڑلی گئی ہے۔فوجی میجر نے محض لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے یہ قبیح کام کیا، تاکہ انہیں ووٹ ڈالنے کے لیے مجبور کیا جائے۔مسٹر گیلانی نے کہا کہ یہ صاف طور سے ایک سنگین قسم کا جنگی جرم ہے اور اس کی کوئی بھی توجیہ قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میجر گوگوئی کے ہاتھوں نوجوان کو جیپ سے باندھنے کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے، بلکہ پچھلے 27سال سے اس قسم کے واقعات یہاں ایک معمول بن گئے ہیں۔ فوج نہ صرف نہتے شہریوں کے حراستی قتل، حراستی گمشدگی اور انہیں بے نام اجتماعی قبروں میں دفن کرنے جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کررہی ہے، بلکہ وہ نہتے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور استعمال کرنے میں بھی ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں ایک ہزار فوجی کیمپ سول آبادیوں میں قائم ہیں اور یہ کیمپ عام شہریوں کے لیے وبال جان بنے ہوئے ہیں۔ لوگ خوف ودہشت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اس وجہ سے ایک بڑی تعداد نفسیاتی امراض کی شکار بھی ہوگئی ہے۔ مسٹر گیلانی نے کہا ’جموں کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جماو¿ والا خطہ ہے۔ یہاں بھارت کی ساڑھے سات لاکھ فوج اور 2لاکھ سے زائد نیم فوجی فورسز تعینات ہیں۔ یہ فوج سنگین قسم کے جنگی جرائم میں ملوث ہے اور اس کے ہاتھوں یہاں کے لوگوں کے جان ومال اور عزت کو زبردست خطرات لاحق ہیں‘۔
حریت چیئرمین نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ بھارت کل بھوشن یادو کے معاملے میں عالمی عدالت انصاف میں جاسکتا ہے اور وہاں سے ان کی سزائے موت پر حکم امتناعی صادر ہوسکتا ہے تو شہری کو جیپ سے باندھنے کے معاملے کی وہاں شنوائی کیوں نہیں ہوسکتی ہے؟ حریت چیرمین نے کہا کہ عالمی عدالتِ انصاف کو انسانوں کے درمیان میں کوئی امتیاز اور تفاوت نہیں برتنا چاہیے اور جہاں بھی کسی کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہو، وہاں اس کا نوٹس لیا جانا چاہیے اور اس کے مداوے کے لیے اپنے اثرورسوخ کو استعمال میں لایا جانا چاہیے۔ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے کشمیری نوجوان کو انسانی ڈھال کے بطور استعمال کرنے والے فوجی افسر کو اعزاز سے نوازنے کے اقدام کو بھارت کی سیاسی قیادت کی کشمیر میں سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کی پشت پناہی کی روایتی پالیسی کا اظہار قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ کشمیر میں سنگین قسم کے جرائم اور حقوق انسانی کی بدتر پامالیوں میں ملوث فوجیوں کو ہمیشہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے اعزازات سے ہی نوازا گیا ہے اور اس طرح کشمیری عوام کے تئیں ہمیشہ فرقہ پرستی اور انتہا پسندی سے عبارت پالیسی کو اپنایا گیا۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیر میں ان گنت خونین سانحات دہرائے گئے لیکن آج تک کسی بھی مجرم کو نہ تو سزا دی گئی اور نہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا بلکہ ان مجرموں کو اعزازات سے نواز کر ان کے سنگین جرائم پر ان کی پیٹھ تھپتھپائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے تئیں سرکاری دہشت گردی کے یہ سنگین واقعات عالمی برادری کے لئے چشم کشا ہیں۔
جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے فوجی میجر کی عزت افزائی کو صریح فسطائیت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی اس معاملے پر حیرت میں نہیں پڑجانا چاہیے کیونکہ بقول مسٹر ملک فسطائیت اور فسطائی ذہن رکھنے والے بالکل اسی انداز سے کام کرنے کے قائل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فسطائیت کا یہ بے لاگ اور ثابت شدہ طریقہ کار ہے کہ یہ لوگوں پر حکمرانی کے لئے جبر،دباو¿، دھونس، قتل و غارت اور دوسرے بھیانک مظالم کا سہارا لیتی ہے۔ انہوں نے کہا ’یہی وجہ ہے کہ ہم بھارتی افواج، فورسز اور پولیس کو مکمل طور پر سزا کے خوف سے عاری ہوکر عام لوگوں کو قتل ،زخمی،اندھا اور اپاہج کرتے دیکھتے ہیں اور کہیں سے بھی کوئی عار یا شرم تک محسوس نہیں کی جاتی ہے‘۔ یاسین ملک نے کہا کہ چونکہ فسطائیت کا ذہن اور اسکا نظریہ ہی خوف کے ذریعے حکمرانی کرنا ہوتا ہے اس لئے آرمی میجر کہ جس نے عالمی قوانین کے مطابق ایک انسان کو انسانی ڈھال بناکر بدترین جرم کا ارتکاب کیا ہے کو انعام و اکرام سے نوازا جانا کسی کے لئے بھی حیرانگی کا باعث نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس انعام و اکرام نے ایک بات پھر ثابت کردی ہے کہ جموں کشمیر دراصل ایک فوجی ریاست ہے جسے فوج، فورسز اور پولیس کے اشاروں اور احکامات کے تحت ہی چلایا جارہا ہے۔ فوجی سربراہ نے کل میجر لیٹول گوگوئی کو توصیفی کارڈ سے نوازا۔

Title: kashmiri separatist upset | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply