ایک کشمیری پنڈت تاجر 29سال بعد کشمیر واپس پہنچا

سری نگر: ایک کشمیری پنڈت نے ،جو 1990میں تشدد کی ایک واردات کے بعد خوف زدہ ہو کر کشمیر سے دہلی منتقل ہو گئے تھے ۔29سال بعد کشمیر پہنچ کر پھر سے اپنی تجارت شروع کر دی۔

خاص بات یہ ہے کہ سری نگر پہنچنے پر ان کا پر تپاک استقبال کیاگیا۔ اور انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے سیکڑوں لوگ وہاں جمع ہو گئے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ 74سالہ کشمیر پنڈت روشن لال ماوا جس وقت اپنی دکان پر تھے تو ایک نوجوان نے ان پر حملہ کر دیا تھا۔

اس حملے میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔جس کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ کشمیر سے دہلی منتقل ہو گئے اور انہوں نے وہاں پرانی دہلی میں خشک میواجات کامکاروبار شروع کر دیا۔

لیکن اب وہ26سال بعد پھر کشمیر واپس آگئے ہیں اور انہوں نے ماة صیام کے پیش نظر اپنی دکان پر کھجوریں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کئی قسم کی کھوریں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہاں کے مسلمانوں کاکہنا ہے کہ وہ کیرانہ کا زیادہ سے زیادہ سامان روشن لال جی سے ہی خریدیں گے۔

مقامی لوگوں نے جس والہانہ انداز میں روشن لال کا استقبال کیا ہے اس سے وہ بہت مسرور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پورے ملک کا سفر کیا ہے لیکن کشمیر جیسی کوئی جگہ نہیں ہے۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Kashmiri pandit trader returns to valley after 29 years in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.