عالمی یوم مادری زبا ن پر ہر کشمیری خاص و عام نے’ مادری زبان‘ کے تحفظ کا عزم کیا

سری نگر:دنیا بھر میں 21 فروری کو منائے جانے والے ’عالمی یوم مادری زبان‘ کے موقعے پر کشمیریوں نے اپنی مادری زبان ’کشمیری‘ کی حفاظت کرنے، اسے نئی پود تک منتقل کرنے اور اس کا اپنی روز مرہ کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ خیال رہے کہ دنیا بھر میں 21 فروری 2000 ء سے ہر سال اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’مادری زبانوں کا عالمی دن‘ منایا جاتاہے جس کا مقصد دنیا کی مادری زبانوں اور خاص طور پر اقلیت کی مادری زبانوں کو فروغ دینا اور اِن کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔ منگل کو اس عالمی دن کے موقعے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ درجنوں نے افراد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر فیس بک پر اپنی مختصر تحریروں کے ذریعے کشمیری زبان کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں ’کشمیری زبان‘ اب صرف بات چیت کی زبان تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے جبکہ اس کے لکھنے والوں کی تعداد میں ہر گذرتے دن کے ساتھ کمی آرہی ہے۔ اگرچہ کشمیر کے اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک کشمیری زبان کا پڑھنا تقریباً لازمی قرار دیا گیا ہے، تاہم باوجود اس کے کوئی دورس نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں۔
اس کے علاوہ اگرچہ کشمیری زبان میں دو روزنامے (سنگرمال اور کہوٹ)پابندی سے شائع ہوتے ہیں، تاہم نئی پود میں انہیں پڑھنے کی دلچسپی کا فقدان پایا جارہا ہے۔ ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ کشمیری زبان کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے اور نئی پود تک منتقل کرنے کا مقصد تب ہی حاصل کیا جاسکتا ہے جب اسے کشمیر کے اسکولوں میں بارہویں جماعت تک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ اس دوران عالمی یوم مادری زبان کے موقعے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ درجنوں نے افراد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر فیس بک پر اپنی مختصر تحریروں کے ذریعے کشمیری زبان کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ سال 2009ء میں منعقدہ سیول سروسز امتحانات میں اول نمبر پر آنے والے نوجوان بیورو کریٹ شاہ فیصل نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ’کشمیری میری مادری زبان ہے۔
عربی میرے مذہب کی زبان ہے۔ فارسی اور سنسکرت ہماری تہذیب کی زبانیں ہیں۔ ہندی تفریح کی زبان ہے۔ انگریزی سماجی نقل وحرکت اور عالمی شہریت کی زبان ہے۔ اور اردو بقا کی زبان ہے جس نے ہمیں تنازعہ کے دور میں مواصلت اور زندہ رہنے کے اہل بنایا۔ میں اپنے بچے کو جڑیں رکھنے کے لئے اس کے دادا کی زبان کشمیری پڑھاتا ہوں۔ اور مجھے بہت خوشی ہے کہ وہ اچھی طرح سے سیکھ رہا ہے‘۔.معروف کشمیری صحافی اور کشمیری روزنامہ ’سنگرمال‘ کے ایڈیٹر ان چیف شجاعت بخاری نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ’ہماری مادری زبان کشمیری نہ صرف ہماری ثقافتی بلکہ سیاسی تشخص بھی ظاہر کرتی ہے۔ چلو اس کا تحفظ کرتے ہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ کشمیری میں بات کرتے ہیں‘۔ شجاعت بخاری جو کہ کشمیری روزنامے کے علاوہ انگریزی روزنامہ ’رائزنگ کشمیر‘ اور اردو روزنامہ ’بلند کشمیر‘ کے ایڈیٹر ان چیف بھی ہیں، نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ’کشمیری زبان ہمارا فخر ہے۔ یہ ایک قوم کے طور پر ہماری پہچان ظاہر کرتی ہے۔ یہ بااثر، طاقتور اور غیر شکستہ زبان ہے۔ چلو اس کا تحفظ کرتے ہیں‘۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Kashmiri a beautiful language dying a slow death in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply