کشمیر یونیورسٹی میں ایل ایل بی کے طالبعلم کی پر اسرار گمشدگی کے خلاف طلبا کا مظاہرہ

سری نگر:کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے ایک طالب علم عاقب ملک کی پراسرار گمشدگی کے خلاف جمعرات کو طلباءنے کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے یونیورسٹی احاطے میں زبردست مظاہرہ کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایل ایل بی کے تیسرے سمسٹر میں زیر تعلیم عاقب ملک کی پراسرار گمشدگی کے خلاف مظاہرے کے دوران طلبا نے سیکورٹی فورس اور حکومت کے خلاف زبردست نعرے لگائے اورعاقب کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی طلباءنے بتا یا کہ عاقب 21 فروری کو کلاسوں میں شرکت کرنے کے بعد گھر کے لئے روانہ ہوا، لیکن وہ گھر نہیںپہنچا‘۔
ایک رپورٹ کے مطابق عاقب نے گذشتہ ہفتے یونیورسٹی احاطے میں کولگام شہری ہلاکتوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں نہ صرف شرکت کی تھی بلکہ احتجاجی شرکاء سے خطاب بھی کیا تھا۔ خیال رہے کہ کولگام کے فرصل علاقہ میں 14 فروری کو ہونے والی جھڑپ کے دوران دو عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ طلباءنے الزام لگایا ہے کہ پولیس احتجاجی مظاہرے کے بعد طالب علم عاقب ملک کا پیچھا کررہی تھی۔ عاقب کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کا رہنا والا ہے۔ اس دوران سرکاری ذرائع نے عاقب کی گمشدگی کو معمول کی گمشدگی کا ایک کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ا±س کا نام سیکورٹی فورس ایجنسیوں کی کسی بھی فہرست میں نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا ’پولیس نے ایک معاملہ درج کرکے گمشدہ نوجوان کو ڈھونڈنے کا کام شروع کردیا ہے‘۔

Title: kashmir university students protest after law student goes missing | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply