ماتا کھیر بھوانی میلہ نہایت زور شور اور عقیدت واحترام سے منایا گیا

تولہ مولہ (گاندربل): وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے تولہ مولہ علاقہ میں واقع مشہور ماتا کھیر بھوانی مندر میں سالانہ ’میلہ کھیر بھوانی‘جمعہ کو انتہائی عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ تولہ مولہ میں واقع کھیربھوانی کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی مقدس جگہ ہے جہاں پر رگنیادیوی جو اِن کی ایک مقدس دیوی ہیں، کی مندر ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کے مطابق رگنیا دیوی صرف کشمیر میں پوجی جاتی ہے۔ اس مندر میں کشمیری پنڈت ’میلہ کھیر بھوانی‘ کے نام سے مشہور تہوار ہر سال مناتے ہیں۔ میلہ کھیر بھوانی کو کشمیری پنڈتوں کا سب سے بڑا اور اہم تہوار مانا جاتا ہے۔ اس تہوار کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ اب گذشتہ اڑھائی دہائیوں سے ان کشمیری پنڈتوں کو اپنے مقامی کشمیری مسلمان بھائیوں سے ملنے کا موقع بھی فراہم کررہا ہے، جو 1990 میں نامساعد حالات کی وجہ سے وادی میں اپنا گھر بارچھوڑ کر ہجرت کرگئے تھے۔ اس تہوار کے موقع پر آج ایک بار پھر جب کشمیری مسلمانوں نے اپنے پنڈت بھائیوں اور پنڈتوں نے اپنی برادری کے دوسرے افراد کے ساتھ برسوں بعد ملاقات کی، تو یہاں نہایت جذباتی مناظردیکھنے کو ملے اور اکثر و بیشتر کو اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک کے مختلف حصوں میں رہائش اختیار کرچکے کشمیری پنڈتوں نے سینکڑوں کی تعداد میں تولہ مولہ گاندربل آکر میلہ کھیر بھوانی میں شرکت کی۔ تاہم میلے کے انتظامات سے وابستہ کشمیری پنڈتوں نے بتایاکہ گذشتہ چند برسوں کے نسبت اب کی بار میلے میں حاضری دینے کے لئے ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی۔
عقیدت مندوں کی تعداد میں کمی آنے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ قومی نجی ٹیلی ویژن چینل اور سوشل میڈیا پر کشمیر کو بہت ہی غلط طریقے سے پیش کیا جارہا ہے۔ اوتار کرشن نامی ایک کشمیری پنڈت نے بتایا ’کشمیر کے حالات سے متعلق بہت سی افواہوں کے بعد میں نے یہاں آنے کا اپنا ارادہ ترک کرنے کا من بنالیا تھا، لیکن اپنے مسلمان دوست عبدالرشید کے مشورے پر میں اپنے کنبے کے ہمراہ چلا آیا‘۔ انہوں نے بتایا ’ہمیں جموں سے تولہ مولہ تک سفر کے دوران کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘۔ اوتار کرشن نے مزید بتایا ’یہاں پہنچنے پر مسلمان بھائیوں نے ہمارا شاندار استقبال کیا‘۔ ایسے ہی تاثرات کا اظہار سرلا نامی ایک خاتون عقیدت مند نے بھی کیا۔ تاہم مذکورہ خاتون نے بتایا کہ ریاست کے باہر مختلف ریاستوں میں مقیم کشمیری پنڈتوں کی بہت ہی کم تعداد میلے میں شرکت کے لئے آئی ہے۔ معروف کشمیری صحافی اور ای ٹی وی کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ کے مطابق وادی میں جاری کشیدگی کے پیش نظر کشمیری پنڈتوں کے ایک بڑے طبقے نے میلے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ’ماتا کھیر بھوانی میلہ آج تولہ مولہ کشمیر میں منایا جارہا ہے۔ اس موقعے پر ہرسال ملک کے مختلف حصوں میں مقیم کشمیری پنڈت ہزاروں کی تعداد میں وادی کا رخ کرکے ماتا کے تئیں عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اسے کھیر بھوانی اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ عقیدتمند مندر میں واقع مقدس چشمہ کو دودھ اور کھیر پیش کرتے ہیں۔ وادی میں جاری کشیدگی کے پیش نظر کشمیری پنڈتوں کے ایک بڑے طبقے نے میلے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ میلہ کھیر بھوانی کے منتظمین کے مطابق سینکڑوں کشمیری پنڈتوں نے اس پوتر مندر میں رات بھر جاری رہنے والی پوجاپاٹ اور ہون کی خصوصی محفلوں میں شرکت کی۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jk mela kheer bhawani annual festival celebrated with religious fervor in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply