جنگ مسائل کا حل نہیں، دو ایٹمی ہتھیار بند ہمسایوں کو سماجی ترقی اور غریبی کے خاتمہ کیلئے لڑیں: محبوبہ مفتی

سری نگر : (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جنگ کے ذریعے مسائل حل نہیں کئے جاسکتے۔ مسائل کے حل کے لئے باہمی چیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے غریبی اور اقتصادی بد حالی سے لڑنے کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کی وکالت کی۔ آج پردھان منتری اجولا یوجنا( پی ایم یو وائی) کے افتتاح کے موقعہ پر یہاں شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن کمپلیکس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا ’ دو ایٹمی ہتھیار بند ہمسایوں کو سماجی ترقی اور غریبی کے خاتمہ کے لئے آپسی تعاون سے کام لینا چاہئے۔ دونوں ممالک کو نئے کثیر بازاروں اور تجارتی مواقعے پیدا کرنے ہوں گے تا کہ آپسی تفرت کو ختم کر کے خطہ میں ایک مشترکہ اقتصادی مفاد کی تشریح ہوسکے‘۔ پی ایم یو وائی کے تحت ملک بھر میں خط افلاس سے نیچے گذر بسر کرنے والے کنبوں کواگلے تین برسوں کے دوران پانچ کروڑ رسوئی گیس کے کنکشن مفت فراہم کئے جائیں گے۔ اس سکیم کے تحت ریاست جموں وکشمیر کے لئے35 لاکھ کنکشنوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس میں سے اگلے 15 روز کے دوران ایک لاکھ کنکشن فراہم کئے جائیں گے۔
اس موقعہ پر وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ، نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ، خوراک، سول سپلائیز اور امور صارفین و وزیر چوہدری ذوالفقار علی، ممبران پارلیمنٹ، کئی ریاستی وزرائ اور ریاستی قانون سازیہ کے ممبران بھی موجود تھے۔ محترمہ مفتی نے کہا’ ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانا چاہئے تا کہ غربت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ خطہ میں سماجی مسائل کا پائیدار حل نکالا جاسکے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جموں وکشمیر کے عوام کی جانب سے ایک پیغام لیکر پاکستان گئے لیکن پٹھان کوٹ واقعہ نے اس سارے عمل کو درہم برہم کر کے رکھا دیا‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین ریاست میں کسی بھی قسم کے نامساعد حالات کا شکار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا’ کشمیر میں پچھلی تین دہائیوں کے دوران پر تشدد واقعات کی بنیادی شکار خواتین ہوئی ہیں اور ان حالات سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ہماری جماعت نے اس وقت امن کے قیام کے لئے کوششیں کیں جب مفتی محمد سعید نے لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانے کی بات کی جب کرگل جنگ کی یادیں ابھی تازہ تھیں‘۔ انہوں نے مزید کہا’ جنگ کے وقت میں مفتی صاحب نے ہندوستان اور پاکستان کی باہمی بات چیت اور مفاہمت پر زور دیا۔2002 میں ہم نے کانگریس کے ساتھ مل کر اس وقت حکومت بنائی جب مرکز میں این ڈی اے کی سرکار تھی۔
اٹل بہاری واجپائی جی نے مفتی محمد سعید کی بات کو سمجھا جس کے نتیجہ میں ریاست میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوا‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ڈی پی جس کی وہ صدر بھی ہیں، نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے ریاست میں قیام امن کے مشن کو آگے بڑھانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا’ اگر مرکز کشمیری عوام کی طرف ایک قدم اٹھاتا ہے تووہ دس قدم بڑھا کر اپنے رد عمل کا اظہار کریں گے اور اسی عمل نے اٹل جی کو کشمیریوں کا ایک محبوب لیڈر بنایا‘۔
معمولی معاملات پر موجودہ مخلوط سرکار کو تنقید کا نشانہ بنانے پر حزب اختلاف کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہی جماعتیں جو کشمیر میں تشدد کو ہوا دیتی ہیں ، نے اقتدار کے لئے ماضی میں اپنے ضمیر کا سودا کیا۔ انہوں نے کہا’ جو لوگ ہمارے خلاف بولتے ہیں، جب وہ اقتدار میں تھے تو جنگ کی زبان بولتے تھے۔ مفتی صاحب کو معلوم تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو پورے ملک کا مینڈیٹ ملا ہے اور اسی لئے انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ہمارے یہاں بیواؤں اور یتیموں کی تعداد حد سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ہم کب تک ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہیں گے‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم کے ورکنگ گرؤپوں نے ریاست جموں وکشمیر کے تینوں خطوں کیلئے مسائل کے حل کیلئے اپنی سفارشات دی ہیں جس میں پاکستان کے ساتھ بات چیت اور پاور پروجیکٹوں کی واپسی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے تینوں خطوں کی ترقی کا عمل شروع کیا ہے جس میں خصوصی طور لاڈلی بیٹی سکیم اور طالبات کے لئے سبسڈی پر سکوٹی فراہم کرکے خواتین کو بااختیار بنانا شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کے لئے بھی ساتھ ساتھ میں عمل شروع کیا جانا چاہئے۔ مرکز کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ یہ معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کے لئے سود مند ہے تا ہم یہ ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’ ہندوستان اور پاکستان معاہدہ کی نظر ثانی کے لئے مل کر کام کرسکتے ہیں اور ہمیں ریاست میں آبی وسائل سے مستفید ہونے کاموقعہ فراہم ہوسکتا ہے۔ ہم اپنے ہم وطنو سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں ہند طاس معاہدہ پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔
یہ بات ہم پاکستان سے نہیں کہہ سکتے ہیں اور دونوں ممالک کو قیام امن کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اگر دونوں ممالک آپس میں پانی بانٹ سکتے ہیں تو اپنے وسائل کیوں نہیں‘۔ وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد میں منعقد ہونے واے سارک سمٹ میں خطہ کے کئی لیڈروں کی جانب سے شرکت پر انکار کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا’ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جہاں کچھ ممالک اقتصادی شراکت داری کرتے ہیں وہیں سارک ممالک مخالف سمت میں جارہے ہیں‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جدید سماجوں میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا’ جو سماج اپنے مسائل کے حل کے لئے تشدد سے کام لیتے ہیں وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ ہمیں دنیا کے مختلف ممالک کی جانب دیکھنا چاہئے جہاں تشدد اور خون خرابہ کی وجہ سے انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں‘۔ مرکزی وزرائ مملکت دھرمیندر پردھان اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے علاوہ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ اور ریساتی وزیر چوہدری ذوالفقار علی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے وادی کے مختلف علاقوں سے آئی کچھ غریب خواتین میں رسوئی گیس کنکشن کے کاغذات تقسیم کئے۔ اس سکیم کے تحت خط افلاس سے نیچے گذر بسر کرنے والی ایک لاکھ خواتین میں اگلے ماہ کے دوران رسوئی گیس کے کنکشن تقسیم کئے جائیں گے۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jk cm mehbooba mufti in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply