جموں وکشمیر حکومت نے شادیوں میں بے جا اسراف اور مہمانوں کی تعداد پر پابندی لگا دی

جموں ، سری نگر: جموں وکشمیر حکومت نے ایک غیرمعمولی اقدام اٹھاتے ہوئے شادیوں کی تقاریب میں بے جا اسراف اور فضول خرچی پر پابندیاں لگانے کا اعلان کردیا ہے۔
ریاستی وزیر برائے امور صارفین و عوامی تقسیم کاری چودھری ذوالفقار علی نے منگل کی دوپہر کو سرمائی دارالحکومت جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شادیوں میں بے جا اسراف اور فضول خرچی کو روکنے کے لئے کچھ بڑے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکم اپریل 2017 ءکو نافذ کئے جانے والے نئے قوانین کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیوں میں مہمانوں کی تعداد بالترتیب 400 اور 500 سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے جبکہ دیگر تقریبات بشمول انگھوٹی پہنانے کی تقریب میں مہمانوں کی تعداد ایک سو سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’شادی کی تقریبات میں ڈی جے یا دوسرے میوزک سسٹم کے استعمال پر کلی طور پر پابندی عائد کی جائے گی‘۔
ذوالفقار علی نے کہا کہ شادی کے دعوت ناموں کے ساتھ مٹھائیوں اور میوہ جات کی تقسیم پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا ’شادی کی تقریب میں صرف سبزیوں کے سات اور گوشت کے سات پکوان تیار کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ مٹھائیوں یا پھلوں کے صرف دو اسٹال لگائے جاسکتے ہیں‘۔

Title: jammu and kashmir no more big fat weddings | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply