کمسن روہنگیا لڑکیوں کوہرجمعہ کو جموں میں 50ہزار روپے میں فروخت کرنے کاسنسنی خیز انکشاف

نئی دہلی: جموں کے نروال علاقہ سے لڑکیوں کی اسمگلنگ کرنے کے الزام میں پکڑے گئے روہنگیا سے دوران تحقیقات کچھ سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم ہر جمعہ کو میانمار کی لڑکیاں لا کر جموں آتا تھا۔
نماز جمعہ کے بعد وہ ان لڑکیوں کے لیے خریدار تلاش کرتا تھا ۔اس روہنگیا کے گروہ نے جموں و کشمیر کے دور افتادہ اضلاع رام بن اور کشتواڑمیں کئی بچیوں کو فروخت کیا تھا۔ اس کے گروہ کا سرغنہ نروال کی ملک مارکیٹ کا رہائشی نور گل امین ولد اکبر علی تھا۔
یہ چھوٹی بچیاں میانمار سے پہلے دہلی لائی جاتی تھیں اور اس کے بعد انہیں جموں لے جایا جاتا تھا۔جہاںان بچیوں کو محض چالیس پچاس ہزار روپے میں فروخت کر دیا جاتا تھا۔
اس کیس کے حوالے سے طیبہ غلام نبی نام کی ایک کشمیری عورت نے اس ضمن میں پولس کو کئی اہم معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ایک بچے کی ماں ہونے کے باعث پولس نے اسے گرفتار تو نہیں کیا تھا لیکن اس کی سرگرمیوںپر وہ نظر رکھے تھی۔
اس کی دی گئی معلوما ت پر جموں پولس نے دہلی پولس کی مدد سے نروال کے کرینی تالاب کے رہائشی محمد عباس اور حیدرآباد کے رہائشی محمد ایوب کو گرفتار کیا۔ پولس نے بازیاب کرائی جانے والی لڑکیوںکو ایک این جی او کے سپرد کر دیا۔ لیکن سیکورٹی اسباب کے تحت اس این جی او کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

Title: gang of rohingya muslims selling minor girls in jammu busted | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply