سری نگر کی جامع مسجد میں لگاتار چھٹی بار نماز جمعہ نہیں پڑھنے دی گئی

سری نگر: کشمیر انتظامیہ نے مسلسل چھٹے جمعہ کو بھی ریاست کے دارالخلافہ سری نگر کے پائین شہر میں سخت ترین پابندیاں نافذ کرکے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنادی۔ 623 برس قدیم جامع مسجد میں 23 جون ( جمعتہ الوداع) کو سخت ترین بندشوں کے ذریعے نماز کی ادائیگی ناممکن بنادی گئی تھی۔ جمعتہ الوداع کے موقعے پر جامع مسجد کو مقفل کرنے پر ریاستی حکومت کو مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ ڈوگرہ شاہی حکومت کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب تاریخی جامع مسجد میں جمعتہ الوداع کی نمازپر قدغن عائد کی گئی۔
30 جون کو کشمیری علیحدگی پسند قیادت نیمتحدہ جہاد کونسل اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے کے خلاف نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاج کرنے کی کال دی تھی اور انتظامیہ نے جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی پر قدغن عائد کرکے وہاں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرے کو ناکام بنادیا تھا۔ 7 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی کے پیش نظر سخت ترین پابندیوں کے نفاذ کے ذریعے جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی ناممکن بنائی گئی تھی۔ 14 اور 21جولائی کو ایک بار پھر سخت ترین پابندیوں کے ذریعے نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنادی گئی تھی۔
کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نی علیحدگی پسند لیڈران اور کارکنوں کے خلاف سرکاری سطح پر اختیار کی جارہی مبینہ جارحانہ پالیسیوں اور ان کو مختلف طریقوں سے ہراساں و پریشان کرنے اور مڑھل انکواؤنٹر میں ملوث فوجی اہلکاروں کو صاف بری کئے جانے کے خلاف آج نماز جمعہ کے بعد پر امن احتجاج کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم انتظامیہ نے اس احتجاجی کال کے پیش نظر جمعہ کی صبح ہی پائین شہر کے مختلف حصوں میں سخت ترین بندشیں عائد کرکے تاریخی جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی مسلسل چھٹی مرتبہ ناممکن بنادی۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Friday prayers disallowed in srinagars grand mosque in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply