فاروق عبداللہ نے کشمیر میں سنیما ہال کھولے جانے کی پر زور وکالت کی

سری نگر:نیشنل کانفرنس کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وادی کشمیر میں سنیما ہال کھولے جانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر دنیا کی واحد ایسی جگہ ہے جہاں سینما ہال نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے باقی صوبوں کے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ کشمیر میں کوئی ملک الموت یا یمراج نہیں بستے ہیں اور انہیں یہاں آکر کشمیریوں کی مہمان نوازی وخاطر تواضع کے انداز کو آزمانا چاہیے۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار گذشتہ شام یہاں شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن کمپلیکس (ایس کے آئی سی سی) میں کشمیر پر بننے والی بالی ووڈ فلم ’سرگوشیاں‘ کے پریمئر شو کی تقریب کے دوران فرصت کے لمحات میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ ’سرگوشیاں‘ بالی وڈ کی پہلی فلم ہے جس کا پریمئر وادی میں دکھایا گیا۔
یہ فلم جو کہ ایک ’ٹریول ڈراما فلم‘ ہے، کو بالی ووڈ کے معروف اداکار ’عمران خان‘ نے ’عمران خان پروڈکشن‘ کے بینر تلے ڈائریکٹ اور پروڈیوس کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر نے اس فلم پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ’سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اس فلم میں وادی کو ایک اچھوتے اور نئے انداز سے پیش کیا گیا ہے۔آپ تو واقف ہیں کہ ملک میں کشمیر کے تعلق سے کس طرح کے حالات ہیں ۔جبکہ باقی ہندوستان کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر زمین پر ملک الموت یا یمراج ہیں تو وہ کشمیر میں ہیں۔ جبکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زمین پر اگر کوئی جنت ہے تو وہ کشمیر ہی ہے۔ آپ یہاں آیئے اور دیکھئے کہ سیاحوں کے لئے لوگوں میں کتنی محبت ہے۔ آکر دیکھئے کشمیر کی آب و ہوا کتنی اچھی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سیاسی بے چینی ضرور موجود ہے۔ انہوں نے کہا ’ہاں سیاسی بے چینی ضرور ہے۔ وہ بھی ایک حصہ ہے کشمیر کی تصویر کا‘۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ فلم سرگوشیاں کی بدولت لوگوں میں کشمیر کے تئیں ایک نیا تاثر پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا ’یہ فلم نہ صرف ہمارے لئے ہے بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے۔ جو اندرون ملک ہی نہیں بیرونی ممالک میں بھی دکھائی جائے گی۔ اس سے لوگوں میں ایک نیا تاثر پیدا ہوگا‘۔ انہوں نے کشمیر میں سنیما ہال کھولے جانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا ’دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سینما ہال نہیں ہیں۔
واحد ایک جگہ کشمیر ہے جہاں فلمیں دکھائی نہیں جاتی ہیں۔ ہمارا پڑوسی پاکستان ، وہاں بھی فلم ہال ہیں۔ تو یہاں کیوں بند کردیے گئے ہیں؟ کیا فلمیں دیکھنا غلط ہے؟ جب گھروں میں ٹیلی ویژن ہیں تو سنیما گھر کیوں نہیں بن سکتے ہیں؟‘۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں ایک بھی سنیما گھر موجود نہیں ہے۔ جن سنیما گھروں میں 1980 کی دہائی میں فلمیں دکھائی جاتی تھیں وہ اب یا تو سیکورٹی فورسز کی زیر استعمال ہیں یا ان کی عمارتیں بوسیدہ ہوچکی ہیں۔ وہ بھی اس حقیقت کے باوجود کہ وادی کی برف سے ڈھکی پہاڑیاں، سرسبز و شاداب کھیت اور دلکش آبی ذخائر بالی ووڈ کو فلموں کی عکس بندی کے لئے یہاں کھینچ لاتے ہیں اور بیسویں صدی کی چھٹی سے لیکر آٹھویں دہائی تک بیشتر بالی ووڈ فلموں کی عکس بندی یہیں ہوئی ہیں۔ وادی کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے ’ وادی میں 1980 کی دہائی کے اواخر میں نامساعد حالات نے جنم میں لیا جس نے یہاں سب کچھ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے‘۔

Title: farooq abdullah speaks in favour of cinema halls in kashmir | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply