خصوصی پوزیشن دینے والی دفعہ 35اے کی لڑائی صرف کشمیری مسلمانوں کی نہیں: فاروق عبداللہ

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے کے دفاع کی لڑائی صرف مسلمانوں یا کشمیریوں کی نہیں ہے بلکہ یہ دفعہ کشمیریوں کے مفادات کے لئے جتنی اہم ہے اس سے زیادہ اہم لداخیوں اور جموں کے رہنے والے لوگوں کے لئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 35 اے آئین ہند میں جموں وکشمیر کی شناخت کی ضامن ہے اور بقول ان کے یہ دفعہ فرقہ پرستوں کو روز اول سے ہی کھٹکتی آئی ہے۔ فاروق عبداللہ نے بدھ کو یہاں وادی کے مختلف علاقوں بشمول ڈورو شاہ آباد ،کولگام اور بیروہ کے عہدیداروں کے الگ الگ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’دفعہ 35 اے مسلمانوں کے لئے جتنی ضروری ہے اتنی ہی اہمیت کی حامل یہاں رہنے والے ہندؤں، سکھوں، بودھوں اور عیسائیوں کے لئے بھی ہے‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھگوا جماعتیں ہمیشہ سے ہی ریاست کی انفرادیت کو ختم کرنے کے لئے سازشیں رچاتی آئی ہیں اور نیشنل کانفرنس عوامی اشتراک سے ان سازشوں کا ڈٹ کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ اس وقت ریاست اور مرکزی میں ایسی جماعت برسراقتدار ہے ، جس نے یکساں سول کوڑ، رام مندر کی تعمیر اور جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے لئے عوام سے ووٹ مانگے اور انتخابات کو مذہبی رنگت دی۔
ایسے عزائم ملک کی سالمیت اور آزادی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا’ مرکزی حکومت کو ہوش کے ناخن لیکر ایسے عزائم سے باز رہنا چاہئے جن سے آگ کے شعلے بھڑکنے کا اندیشہ ہو‘۔ فاروق عبداللہ نے کہا ’2014میں جو سیلاب آیا وہ خود بہ خود واپس گیا اور ہم اس کی تباہ کاریوں سے جوں توں کرکے پھر سے اپنی اپنی زندگی میں مشغول ہوگئے لیکن دفعہ 35 اے کے خاتمے کی صورت میں جو سیلاب آئے گا وہ نہ صرف دن بہ دن بڑھتا چلا جائے گا بلکہ تباہ کاریاں بھی کرتا چلا جائے گا اور کشمیری قوم کا وجود اور پہچان اس طوفان کی نذر ہوجائے گا‘۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جموں وکشمیر عوام کے ساتھ ساتھ یہاں کی سیاسی جماعتوں کو تمام اختلافات اور رنجشیں بالائے طاق رکھ کر میدانِ کارزار میں متحد ہوکر دفعہ 35 اے کے دفاع کے لئے صف آراہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا’ ہماری آواز میں اسی صورت میں وزن آسکتا ہے جب ہم متحد ہوں گے‘۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ دفعہ 35 اے کے خاتمے سے کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ جموں وکشمیر زمین خریدنے کا اہل ہوسکتا ہے، نوکری حاصل کرسکتا ہے اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ بھی ڈال سکتا ہے۔جس سے ہماری انفرادیت، پہچان اور کشمیریت مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔ ریاست کا آبادیاتی تناسب بگڑ جائے گا، بے روزگاری کے مسائل سے دوچار ہماری ریاست میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد مزید بڑھ جائے گی کیونکہ غیر ریاستی امیدوار نوکریاں حاصل کرنے کے اہل بن جائیں گے۔
فاروق عبداللہ نے ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ ہمارا دشمن مشترکہ ہے، ہم سب کو ہوشیار رہنے کے ساتھ ساتھ ریاست کو دفعہ 35 اے کی صورت میں درپیش چیلنج کامل کر سیاسی اور قانون طور پر دفاع کرنا ہوگا۔ ان اجلاسوں میں این سی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر ،صوبائی صدور ناصر اسلم وانی ، دیوندر سنگھ رانا اور جنوبی زون صدر سکینہ ایتو، ممبران قانون سازیہ ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، الطاف احمد کلو، سابق وزیر پیر زادہ احمد شاہ، صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار اور دیگر پارٹی عہدیدار بھی موجودتھے۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Farooq abdullah on article 35 a in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply