پاکستان کشمیری نوجوانوں کو اکسا رہا ہے : مولانا اطہر دہلوی

جموں: انجمن منہاج الرسول کے چیئرمین مولانا سید اطہر دہلوی نے دعویٰ کیا ہے کہ وادی کشمیر کی صورتحال جو پہلے سیاسی نوعیت کی تھی، اب فرقہ وارانہ رنگ اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے افغانستان کے حالات کے لئے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اب کشمیر میں بھی افغانستان جیسے حالات پیدا کرنے کی سمت میں کام کررہا ہے۔ مولانا نے کشمیر میں حالات کو پٹری پر لانے کے لئے انتہا پسند گروپوں اور پاکستان کے سوا دیگرتمام متعلقہ فریقوںکے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میں ہندوستان سے زیادہ پاکستان کے ٹی وی چینلز دیکھے جاتے ہیں۔
اطہر دہلوی نے یہاں یو این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہمیری ذاتی رائے یہی ہے اس دیرینہ تنازعہ کے تصفیہ کے لئے کشمیر میں تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے‘۔ مولانا نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو اس الجھن کے حل کے لئے ناگا لینڈ طرز کے مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا ’پہلے کشمیر کی صورتحال سیاسی نوعیت کی تھی، لیکن اب یہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کررہی ہے‘۔ منہاج الرسول کے چیئرمین نے کہا ’ہماری تنظیم اس خطے بشمول وادی کشمیر میں امن اور رواداری کی بحالی کے لئے کوشاں رہی ہے‘۔ انہوں نے کہا ’کشمیر کے تین روزہ دورے کے دوران مجھے اس بات کا مشاہدہ ہوا کہ اہلیان وادی امن اور رواداری کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔ وہ ترقی چاہتے ہیں‘۔ مولانا اطہر نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پنجاب کی مابعد 1984 ء کی صورتحال جیسی ہے۔
انہوں نے کہا ’پاکستان کشمیر میں افغانستان اور فلسطین کے جیسے حالات پیدا کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ ہمیں پاکستان کے ان ناپاک عزائم کو سمجھنا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا ’کشمیر میں نوجوان اپنے آپ کو قومی دھارے سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ وہ تعلیم اور مختلف سہولیات کے متمنی ہیں۔ اس کے لئے مرکزی سرکار کو ماسوائے بنیاد پرست قوتوں کے اہلیان وادی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے چاہئیں‘۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا اطہر نے کہا ’پاکستان جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو اکسا رہا ہے۔ وہ اس کام کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کررہا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’تاہم امید کی کرن اب بھی باقی ہے کیونکہ نوجوان چھروں اور بندوقوں کی دنیا سے باہر آنا چاہتے ہیں۔ وہ سہولتیں چاہتے ہیں‘۔
کشمیر کے دو پارلیمانی حلقوں (سری نگر اور اننت ناگ) پر ہونے والے ضمنی انتخابات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا ’لوگ علیحدگی پسندوں کی جانب سے دی گئی بائیکاٹ کال کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ کشمیر میں جمہوریت کی جیت ہماری جیت تصور کی جائے گی‘۔ اطہر دہلوی نے کہا ’عام کشمیریوں کا 2014 کے سیلاب کے دوران غیرمعمولی نقصان ہوا۔ سیاحتی شعبہ بھی بری طرح سے متاثر ہوا۔ لیکن وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے نعرے ”سب کا ساتھ سب کا وکاس کے تحت“ انڈسٹریل سیکٹر ، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں کو بحال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کشمیر کا ملک کے ساتھ بانڈ کو برقرار رکھنے کے لئے اس خطے کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہیے‘۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Dialogue with all must for peace in kashmir dehlavi in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply