جموں مقیم روہنگیائی پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کا طریقہ کار مرکزی وزارت داخلہ کے زیر غور

جموں:مرکزی وزارت داخلہ نے جموں وکشمیر کی سرمائی دارالحکومت جموں میں مقیم روہنگیائی مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے طریقہ کارپر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ ظاہری طور پر یہ پیش رفت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور پنتھرس پارٹی کی روہنگیائی مسلمانوں کی جموں میں موجودگی کے خلاف شروع کردہ بغاوت کا نتیجہ ہے۔
دی نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ جموں وکشمیر حکومت کے ریاست میں غیرقانونی طور پر مقیم دس ہزار روہنگیائی پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے پر غور کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی کی جانب سے پیر کو بلائی گئی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں روہنگیائی مسلمانوں کو جموں بدر کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ میٹنگ میں ریاستی چیف سکریٹری بی آر شرما اور پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے بھی شرکت کی ہے۔
رپورٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے ’وزارت (داخلہ) جموں وکشمیر میں مقیم روہنگیائی مسلمانوں کی شناخت کرنے اور انہیں وہاں سے نکالنے کے طریقوں پر غور کررہی ہے‘۔ قابل ذکر ہے کہ جموں میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے قریب تین لاکھ پناہ گزیں بھی رہائش پذیر ہیں، تاہم بی جے پی اور پنتھرس پارٹی انہیں ہر قسم کی سہولت بہم پہنچانے کے حق میں ہیں۔
جموں میں گذشتہ ماہ (مارچ) کے تیسرے ہفتے میں کچھ روہنگیائی مسلمانوں کے قبضے سے مبینہ طور پر آدھار کارڈ برآمد ہوئے تھے جس کے بعد ریاستی حکومت نے شہر میں مقیم روہنگیائی رفوجیوں اور بنگلہ دیشی شہریوں کے پاس موجود دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کردیا تھا۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Deportation plan for myanmar refugees in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply