بنگال کی عدالت میں کشمیری نوجوان کو سزائے موت سنائے جانے کے خلاف کشمیر میں پر تشدد مظاہرے

سری نگر: مغربی بنگال کی ایک عدالت کی جانب سے کشمیری نوجوان مظفر احمد راتھر کو سزائے موت سنائے جانے کے خلاف وادی کشمیر میں جمعہ کو علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر ہڑتال رہی جس کے دوران چند ایک مقامات پر احتجاجی مظاہرے اور احتجاجی مظاہرین کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ جھڑپوں میں متعدد افراد بشمول سیکورٹی فورسز کے اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔
خیال رہے کہ مغربی بنگال کے جنوبی 24پرگنہ ضلع کی بن گاؤں عدالت نے گذشتہ ماہ 2007ء میں سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) کے ذریعہ پترا پول سرحد پر گرفتار لشکر طیبہ کے تین مبینہ جنگجوؤں کو موت کی سزا سنائی۔ سزا پانے والوں میں مظفر احمد راتھر جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کا رہنے والاہے جبکہ دیگر دو پاکستانی شہری ہیں۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اس عدالتی فیصلے کو ’انصاف کا خون‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آج پورے کشمیرمیں یوم مزاحمت منانے کے ساتھ ساتھ مکمل ہڑتال اور پر امن احتجاج کرنے کی کشمیری عوام سے اپیل کی تھی۔ عدالتی فیصلے کے خلاف کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے انتظامیہ نے حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو اپنی رہائش گاہ پر نظربند رکھا۔ نظربند رہنے کے باعث میرواعظ سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں اپنا معمول کا خطبہ نہیں دے سکے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق میرواعظ کی نظربندی کے باوجود تاریخی جامع مسجد کے باہر نہ صرف احتجاجی مظاہرہ ہوا بلکہ مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد مغربی بنگال کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس کی صورت میں نوہٹہ چوک کی طرف بڑھنے لگے۔ تاہم وہاں پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت نے احتجاجیوں کا راستہ روکا جس کے نتیجے میں کچھ نوجوان مشتعل ہوگئے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤکرنے لگے۔ سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کے گولوں کا شدید استعمال کیا۔ طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔ شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور میں بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں جس دوران سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے اشک آور گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔
دریں اثنا علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر ہڑتال کے باعث وادی میں اگرچہ معمول کی زندگی متاثر رہی، تاہم سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج معمول کے مطابق جاری رہا۔ پولیس نے بتایا کہ وادی کے کسی بھی حصے میں پابندیاں یا کرفیو نافذ نہیں رہا، تاہم احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لئے کئی ایک حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔ سری نگر کے بیشتر علاقوں بشمول تاریخی لال چوک میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ بیشتر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ تاہم سیول لائنز اور بالائی شہر میں اکا دکا نجی ٹرانسپورٹ اور چھوٹی مسافر گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ اس کے علاوہ چھاپڑی فروشوں کو معمول کی کاروباری سرگرمیوں میں مصروف دیکھا گیا۔
سری نگر کے پائین شہر میں کاروباری اور دیگر سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ سڑکوں اور حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رہی۔ وادی کے دیگر 9 اضلاع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بعض ضلع و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل جبکہ بعض میں ہڑتال کا جزوی اثر رہا۔ شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ معطل رہا۔

Title: demonstrationin kasmir valley against west bengal court decision | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply