کشمیر میں وانی کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے،کرفیواور ہڑتال جاری، نظام حیات درہم برہم

سری نگر: حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی کشمیر میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پورے جنوبی کشمیر اور موسم گرما کے دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جاری ہے۔ تاہم اِن میں سے بیشتر علاقوں خاص طور پر پلوامہ، اننت ناگ اور کولگام میں احتجاجی مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے بھی کررہے ہیں۔
دوسری جانب وادی میں آج چوتھے روز بھی مکمل ہڑتال رہی۔ واضح رہے کہ بزرگعلیحدگی پسند رہنما و حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی، حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف)کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے پیر کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ہڑتال میں 2 روز کی توسیع کا اعلان کیا۔ جنوبی کشمیر کے سبھی چار اضلاع میں کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے جہاں احتجاجی مظاہرین کرفیو توڑتے ہوئے برہان وانی اور سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف اور کشمیر کی آزادی کے حق میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی فورس اہلکار مکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں پر نصب لاو¿ڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلان کیا جارہا ہے کہ ’کرفیو نافذ ہے اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں‘۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی فورس اہلکار اس قدر سختی برت رہے ہیں کہ زخمیوں اور مریضوں تک کواسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ پلوامہ کے ایک رہائشی عبدالمجید نے بتایا ’ہمیں اشیائے ضروریہ بشمول دودھ، سبزیوں، ادویات اور روٹی کی شدید قلت کا سامنا ہے‘۔
سری نگر کے شہر خاص، ڈاو¿ن ٹاون اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں کرفیو جاری رہنے سے سری نگر کے رہائشی منگل کو چوتھے دن بھی اپنے گھروں تک ہی محدود رہے۔ شہر خاص، اندرونی علاقہ اور سیول لائنز کے مائسمہ میں 9 جولائی کی صبح کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے منگل کی صبح سری نگر کے مختلف کرفیو والے علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ ’کرفیو کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رکھی گئی ہے‘۔
خانیار کراسنگ پر تعینات سیکورٹی فورسز کے ایک گروپ نے نامہ نگار کو بتایا ’ہمیں شہر خاص اور ڈاو¿ن ٹاون کے علاقوں میں لوگوں کے داخلے کو روکنے کی ہدایات ملی ہیں‘۔ تاہم کرفیو کے باوجود اِن علاقوں میں گذشتہ شام احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اِن علاقوں کے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ وہ گذشتہ چار روز سے اپنے گھروں تک ہی محدود ہیں اور انہیں اشیائے ضروریہ خاص طور پر دودھ اور سبزی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب وہ بغیر دودھ کی چائے (کشمیری قہوے) اور گھروں میں موجود دالوں پر ہی اکتفا کررہے ہیں۔ دوسری جانب جاری ہڑتال کے نتیجے میں وادی میں آج معمولات زندگی مسلسل چوتھے روز بھی مفلوج رہے۔ وادی کے جن علاقوں کو کرفیو سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے وہاں بھی دکانیں اور تجارتی ادارےبدستور بند رہے اورسڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی معطل ہے۔ اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ (ایس آر ٹی سی) کی گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی معمول کا کام کاج بدستور ٹھپ ہے۔
وادی میں پیٹرول پمپ بھی بند رکھے گئے ہیں۔ سیبوں کے شہر سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے اس اور دیگر قصبوں میں آج چوتھے روز بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے اور سڑکوں پر ہو کا عالم طاری ہے ۔اکادکا گاڑی بھی گذرتی نظر نہیں آرہی۔بارہمولہ اور شمالی کشمیر کے دیگر قصبہ جات بشمول ہندواڑہ، کپواڑہ، بانڈی پورہ اور پٹن میں آج بھی مکمل ہڑتال رہی۔ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔(یو این آئی)

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Curfew and strike continues in kashmir in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply