لکھنؤ میں کشمیر میوہ فروشوں کو مارنے پیٹنے پرعمر عبداللہ کا وزیر اعظم سے احتجاج

سری نگر :اترپردیش کے دارالسلطنت لکھنؤ میں کشمیریوں پر حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کو ہدف تنقید بنایا ۔انہوں نے اس ضمن میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے بھی جو کہ لکھنؤ پارلیمانی حلقہ سے ہی منتخب ہو کر لوک سبھا پہنچے ہیں، بات کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سبھی جانتے ہیں کشمیری لکھنؤ میں پہلی بار ڈرائی فروٹ نہیں فرخت کر رہے تھے بلکہ وہ برسوں سے لکھنؤ میں میوہ جات بیچ رہے ہیں۔

عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ کیا اس واردات کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے اگر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا ہے تو کیا کشمیریوں کی خیر خواہی میں وزیر اعظم کی تشویش اور یقین دہانیوں کو بھی محض” جملہ برائے تسلی “ سمجھا جائے۔

انہوں نے ٹوئیٹ کر کے مزید کہا کہ مودی صاحب کشمیریوں پر تشدد کے خلاف آپ کے بولنے کے باوجود یہ وارداتیں ہو رہی ہیں ۔یہ وہی ریاست اترپردیش ہے جہاں آپ کا ہی منتخب کردہ وزیر اعلیٰ ہے۔

واضح ہو کہ پلوامہ حملہ کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری طلبا پر حملوں کی اطلاع ملنے پر 23فروری کو وزیر اعظم نے ان حملوں کی شدید مذمت کی تھی اورکہا تھا کہ وقت کا تقاضہ دہشت گردی سے نمٹنے کا ہے کیونکہ اس سے غیر کشمیری باشندے ہی نہیں بلکہ خود کشمیری عوام بھی دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھاکہ ہماری لڑائی دہشت گردی ،انسانیت کے دشمنوںکے خلاف ہے ۔ہماری لڑائی کشمیر کے لیے ہے کشمیریوں کے خلاف نہیں۔

گذشتہ کچھ روز سے ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری بچوںکےساتھ چھوٹا بڑا جو بھی واقعہ ہوا ہے وہ ایجنڈا نہیں ہے ۔ایجنڈہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ دہشت گردی سے کشمیر کا بچہ بچہ بیزار ہے۔وہ بھی دہشت گردی کا قلع قمع چاہتے ہیں اور اس لڑائی میںوہ ہمارا ساتھ دینے تیار ہیں۔انہیں ہمیںاپنے ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔واضح ہو کہ ویڈیو میں صاف دکھایا گیا ہے کہ سڑک کے کنارے دو کشمیری میوہ فروشوں کو جو میوہ جات سجائے بیٹھے ہیں گالم گلوچ کر کے مارا پیٹا جا رہا ہے ۔

یہ واقعہ لکھنو کے حسین گنج کے علاقہ ڈالی گنج برج علاقے میں پیش آیا اور اس میں زعفرانی کرتوں میں ملبوس دو لوگ ڈنڈوں سے کشمیری تاجروں کو پیٹنے لگے۔اس موقع پر اطلاعات کے مطابق راہ چلتے کئی لوگوں نے مداخلت کرتے ہوئے کشمیریوں کو بچانے کی کوشش کی۔

وائرل ویڈیو میں ایک ایسے ہی شخص کو کہتے ہوئے سنا جارہا ہے”قانون کو اپنے ہاتھوں میں مت لو۔ پولیس کو بلاﺅ”۔اس ضمن میں میڈیا رپورٹس کے مطابق کیس درج کرلیا گیا ہے اور ایک ملزم ،جس کی پہچان بجرنگ سونکر کے طور ہوئی ہے، کو گرفتار کیا گیا ہے۔گرفتار شدہ نے’ ویشوا ہندو دل’ کا صدر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Can we expect actionomar abdullah after violent hate asks pm modi in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.