کشمیر میں اغوا پولس کانسٹبل کی لاش پائی گئی، بندوق برداروں کی فائرنگ میںایک امام زخمی

سری نگر: کشمیر میں سلامتی دستوں اور مخالفین و نکتہ چینوں کے اہلکاروں پر انتہاپسندانہ حملے ہیں کہ تھمنے میں نہیں آرہے۔ تازہ ترین واقعات جنوبی کشمیر میں ہو ئے جہاں مشتبہ انتہا پسندوں نے اغوا کیے گئے ایک پولس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک اور ایک امام کو زخمی کر دیا ۔

پولس اہلکار کی لاش جمعہ کی صبح جنوبی کشمیر کے شوپیان کے ایک گاؤں میں خون میں لت پت پائی گئی۔ایک پولس اہلکار نے کہا کہ مقتول پولس اہلکار کی شناخت جاوید احمد ڈار عرف جج ڈار کے طور پر کی گئی ہے وہ کانسٹبل رینک کا تھا اور شوپیان کے وے ہیل گاؤں کارہائشی تھا۔

اس کی لاش کلگام میں پریوان گاؤں میں پائی گئی۔مشتبہ دہشت گردوں نے اغوا پولس اہلکار کی ایک ویڈیو بھی بنائی۔ڈار کو جمعرات کی شام میں اس کی رہائش گاہ سے ادا کیا گیا تھا۔گھر والوں کے مطابق چار بندوق بردار گھر میں گھسے اور اس سے کہا کہ وہ انکے ساتھ ان کی کار میں چلے۔

ڈار شوپیان کے سینیئر پولس سپرنٹنڈنٹ شلندر مشرا کے پورسنل سیکورٹی آفس میں تعینات تھا۔ گذشتہ20روز کے دوران سلامتی دستوں کے کسی اہلکار کے اغوا کی یہ دوسری واردات ہے۔

اس سے قبل 14جون کو اورنگ زیب نام کے ایک فوجی کو پلوامہ ضلع کے کلام پورہ گاؤں سے اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں اس کی لاش ضلع کے گوسو گاؤں میں پڑی پائی گئی۔دریں اثنا جمعہ کی ہی صبح پلوامہ کے پری گام مین ایک امام پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ۔

اس فائرنگ میں مولوی محمد اشرف ٹھوکر کی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگیں۔فوری طور پر حملہ کے پس پشت کارفرما محرک معلوم نہیں ہو سکا۔

Title: body of kidnapped policeman found in shopian village | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply