کشمیر میں پیلٹ گن کے شکارنوجوانوں کابینائی سے محروم ہونے کا سلسلہ جاری

سری نگر: (یو ا ین آئی) کشمیر میں گذشتہ 24 دنوں کے دوران سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی احتجاجی مظاہرین کے خلاف کاروائیوں کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ دارالحکومت سری نگر کے دو بڑے اسپتالوں کے وارڈ برائے امراض چشم اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ پیلٹ گن یا چھرے والی بندوق کے شکار اِن زخمیوں میں ایسے کمسن لڑکے بھی شامل ہیں، جن کی عمر پانچ سے دس برس کے درمیان ہے۔
اگرچہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سیکورٹی فورسز کو احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کے دوران چھرے والی بندوق کے استعمال سے حتی الامکان اجتناب کرنے کی تاکید کی ہے، لیکن گذشتہ 24 دنوں کے دوران شاہد ہی کوئی دن ایسا گذرا ہوگا جب کسی نوجوان کو پیلٹ کے زخمیوں کے ساتھ اسپتال میں نہیں لایا ہوگا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے دوران مختلف سائز کے 3000 سے زائد پیلٹ کارتوس، 2 ہزار سے زائد ربڑ کی گولیاں، 2100 پلاسٹک پیلٹ، 150 ملٹی بٹن شیلز اور 200 سٹنٹ گرینڈز استعمال کئے گئے ہیں۔ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر میں تاحال 50 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 5 ہزار دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔
ہلاک شدگان میں ایک پولیس اہلکار اور تین خواتین بھی شامل ہیں۔ سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ (ایس ایم ایچ ایس) اسپتال یا صدر اسپتال کے شعبہ امراض چشم کے وارڈ نمبر 7 اور 8 اپنی ایک یا دونوں آنکھوں سے محروم زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں، جو اپنے مستقبل کے بارے میں انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔ اِن میں سے بعض زخمیوں کی عمر پانچ سے دس برس کے درمیان ہے۔ بیشتر زخمیوں کی ایک یا دونوں آنکھیں کاٹن اور جراحی پٹیوں سے ڈھانپی ہوئی ہیں۔ جن زخمیوں کی ایک یا دو ہفتے قبل جراحی ہوئی ہے، نے اپنی آنکھوں کے دائمی درد کو کالی عینکوں سے چھپا رکھا ہے۔ زخمیوں سے بھرے وارڈ میں پانچ سالہ ناصر احمد بھی زیر علاج ہے، جس کی بائیں آنکھ کی جراحی کچھ روز قبل ہی ہوئی ہے۔
اپنی آنکھ کے زخموں سے ناآشنا ناصر کے پاس جب بھی کوئی اجنبی جاتا ہے تو وہ اپنے والد کا ہاتھ مضبوطی کے ساتھ پکڑتا ہے۔ تاہم کمسن ناصر کا علاج کررہے ڈاکٹروں پرامید ہیں کہ وہ اپنی زخمی آنکھ سے پھر سے دیکھ سکے گا۔ ناصر کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ اس کی آنکھ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے شیرپورہ میں سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں زخمی ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کمسن ناصر پر تاحال دو مرتبہ جراحی کی جاچکی ہیں۔ ناصر کے والد محمد الطاف خان جن کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے، نے بتایا ’ناصر اب بہتر محسوس کررہا ہے، لیکن وہ اچانک خوف و وحشت کے عالم میں نیند سے بیدار ہوجاتا ہے اور مجھے پکارنے لگتا ہے۔ اسپتال میں ہمارے ابتدائی دن تو بہت زیادہ مشکل تھے کیونکہ ناصر ناقابل برداشت تکلیف میں مبتلا تھا۔ ہمارے لئے اپنے بچوں کو اس حالت میں دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے‘۔ صدر اسپتال کے اِن دو وارڈوں میں زیر علاج زخمیوں میں ناصر اکیلا کمسن زخمی نہیں ہے۔ وارڈ کے دوسری طرف 10 سالہ شاہد احمد بٹ اپنے بیڈ پر خاموش بیٹھا ہوا ہے۔
شاہد کی بائیں آنکھ سیکورٹی فورسز کی جانب سے احتجاجی ریلی کے دوران چلائے گئے پیلٹ سے زخمی ہوئی تھی۔ یہ دس سالہ کمسن ڈاکٹر بننا چاہتا تھا، لیکن اب اپنے مستقبل کے بارے میں شک میں مبتلا ہوگیا ہے۔ شاہد نے یو این آئی کے نامہ نگاروں کو بتایا ’میں دوسرے بچوں کی طرح پھر سے نارمل ہونا چاہتا ہوں۔ میں اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھنے کے لئے اللہ سے دعا مانگتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ وہ مجھے مایوس نہیں کرے گا۔میری آنکھ کا درد ناقابل برداشت ہے لیکن میں اس درد کو اپنی ماں کے سامنے ظاہر نہیں کرتا۔ میں نہیں چاہتا کہ میری ماں دکھی ہو‘۔ اگلے بیڈ پر 14 سالہ اعجاز احمد لیٹا ہوا ہے جو شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے ایپل ٹاون سوپور میں سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں اپنی دائیں آنکھ اور چہرے پر پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگیا تھا۔ اعجاز نے بتایا ’میں اپنی دائیں آنکھ سے کچھ بھی دیکھ نہیں پارہا ہوں۔
پیلٹ سے میری بائیں آنکھ بھی جزوی طور پر زخمی ہوئی ہے لیکن خوش قسمتی سے میں اس سے دیکھ پا رہا ہوں۔ میں احتجاج کا حصہ نہیں تھا۔ میں اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا جب آہنی ریزے میری آنکھوں اور چہرے پر لگے۔ وہ درد ناقابل بیان تھا‘۔ اگرچہ حکومت کے مطابق آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 190 ہے ، لیکن ذرائع کے مطابق ایسے زخمیوں کی تعداد 220 ہے۔ اِن میں 25 ایسے ہیں جن کی دونوں آنکھیں ناکارہ ہوگئی ہے۔جنوبی کشمیر کے سدھو شوپیان کی رہنے والی انشاکے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ نویں جماعت کی طالبہ ہے اور ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ اگرچہ آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کی آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک تین رکنی ٹیم نے گذشتہ دنوں سری نگر کے صدر اسپتال کا دورہ کیا۔ تاہم نہ انہوں نے جراحی کی اور نہ ہی مریضوں کا معائنہ کیا بلکہ صرف مریضوں کی فائلیں دیکھ کر واپس چلتے بنے۔ مذکورہ ٹیم کو مرکزی سرکار نے پیلٹ گن کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو طبی امدادفراہم کرنے کے لئے یہاں بھیجا تھا۔ لیکن وہ یہاں محض چوبیس گھنٹے ٹھہرنے کے بعد واپس چلتے بنے۔
تاہم پروفیسر سدرشن کے کمار جو ٹیم کی قیادت کررہے تھے، نے کہا تھا کہ انہوں نے حالیہ برسوں میں پیلٹ گن کے شکار اتنے افراد کی تعداد کبھی نہیں دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا تھا ’کشمیر میں پیلٹ گن کے شکار اتنے افراد کی تعداد صرف جنگ جیسی صورتحال میں دیکھی جاسکتی ہے‘۔ سری نگر کے شہرخاص کے رہنے والے دانش جن کی دونوں آنکھیں گذشتہ ہفتے سیکورٹی فورسز کی طرف سے چلائے گئے پیلٹ کی وجہ سے متاثر ہوئی تھیں، کو اپنے گھر والوں نے خصوصی علاج ومعالجہ کے لئے حیدرآباد منتقل کیا ہے۔ حیدرآباد منتقل کئے جانے سے قبل وہ صدر اسپتال میں زیر علاج تھا۔ صدر اسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ دانش کی بائیں آنکھ نکالی جاچکی ہے جبکہ دائیں آنکھ کی بینائی بحال ہونے کے امکانات 20 فیصد سے بھی کم ہیں اور انہوں نے دانش کے والدین کو اسے خصوصی علاج ومعالجہ کے لئے بیرون کشمیر کسی آنکھوں کے اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔ اگرچہ دانش کا کنبہ شدید غربت میں زندگی گذار رہا ہے اور ان کے لئے دانش کا باہر کسی اسپتال میں علاج کرانا ممکن تھا، تاہم بعض لوگوں کی مدد سے اسے حیدرآباد منتقل کیا جاچکا ہے۔
…دانش کی ماں پہلے ہی انتقال کرچکی ہے جبکہ والد ایک مزدور ہے۔ دانش نے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لئے حال ہی میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت شروع کی تھی۔ جب یو این آئی کے نامہ نگاروں نے گذشتہ ہفتے صدر اسپتال کا دورہ کیا تھا تو دانش کے والدین اور رشتہ داروں کی بے بسی کا عالم یہ تھا کہ جب دانش ان کو اپنی آنکھوں کے بارے میں پوچھتا تھا تو وہ اسے آنکھوں کی بینائی بہت جلد بحال ہونے کی جھوٹی تسلیاں دے رہے تھے۔ دانش نے اپنے والدین اور رشتہ داروں کو بتایا تھا کہ وہ بینا ئی کھو دینے کے بجائے مرنا پسند کریں گے۔ ایک مقامی انگریزی روزنامے نے اپنی ایک رپورٹ میں صدر اسپتال ڈاکٹروں کے حوالے سے کہا ہے کہ دانش آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے اپنی بینائی مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ دانش کو اتنے قریب سے نشانہ بنایا گیا ہے کہ پیلٹس کا پورا کارتوس اس کی آنکھوں کو چھلنی کرگیا ہے۔ جن ڈاکٹروں نے دانش کی آنکھوں کا آپریشن کیا ہے، انہوںنے کہا ہے کہ انہوں نے آنکھوں میں ایسے خوفناک زخم پہلی بار دیکھے ہیں۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Blinded by pellet guns victims reveal horror tales in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply