حالات کا جائزہ لینے کے لیے فوجی سربراہ جنرل دلبیر سنگھ کا دورہ کشمیر

سری نگر:بارہ روزز قبل 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہرکے بعد وادی کشمیر میں روز بروز حالات بدتر ہونے کے پیش نظر فوجی سربراہ جنرل دلبیر سنگھ بدھ کے روز وادی کا دور کریں گے۔واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ غیر معینہ مدت کاکرفیو بھی جاری ہے جس کے باعث بدھ کو مسلسل بارہویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج رہے۔
موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس بھی گذشتہ بارہ روز سے بدستور معطل ہے۔ میڈیا پر قدغن کے باعث بدھ کو مسلسل پانچویں دن بھی وادی سے نکلنے والے اخبارات شائع نہ ہوسکے۔ مقامی اخبارات کے مدیران و مالکان نے کل اخبارات کی اشاعت بحال کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکومت سے کہا کہ وہ میڈیا پر عائد پابندی کی ذمہ داری قبول کرے اور ایک بیان کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ میڈیا کی سرگرمیوں میں رخنہ نہیں ڈالا جائے گا۔ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے دوران تاحال 45 افراد ہلاک جبکہ قریب 4000دیگر زخمی ہو چکےہیں۔
ہلاک شدگان میں 3 خواتین اور ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر افراد مظاہرین پر سیکورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ تین خواتین میں سے 18 سالہ جواں سال لڑکی یاسمینہ 10 جولائی کو ضلع کولگام کے دمہال ہانجی پورہ جبکہ 55 سالہ سیدہ بیگم اور 32 سالہ نیلوفر اختر18 جولائی کو ضلع کولگام کے قاضی گنڈ میں سیکورٹی فورسز کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئیں۔ وادی میں جاری احتجاجی لہر کے دوران جنوبی کشمیر سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ثابت ہوا جہاں 40 ہلاکتیں ہوئیں۔ اِن میں ضلع اننت ناگ میں سب سے زیادہ 18 ، ضلع شوپیان میں 5 ، ضلع کولگام میں 13 اور ضلع پلوامہ میں 4 ہلاکتیں ہوئیں۔ 4000 زخمیوں میں سے 150 زخمی ایسے ہیں جو آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں اور خدشہ ہے کہ اِن میں سے درجنوں اپنی بینائی کھو سکتے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں گذشتہ شام احتجاجی مظاہرے کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں تین کمسن بچے پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق قصبہ اننت ناگ کے کھنہ بل میں احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں میں آٹھ سالہ آصف رشید، 13 سالہ عرفات شفیع اور 14 سالہ واسق فاروق پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سری نگر کے صدر اسپتال اور ہڈیوں و جوڑوں کے اسپتال میں گذشتہ دس دنوں کے دوران پیلٹ اور گولیوں سے زخمی ہونے والے افراد پر قریب 450 جراحیاں کی جاچکی ہیں۔ احتجاجی مظاہروں اور شہری ہلاکتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے کے درمیان ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیر کی موجودہ امن و قانون کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے 21 جولائی کو ڈل جھیل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر سری نگر میں کل جماعتی میٹنگ طلب کی ہے۔
ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں بشمول پی ڈی پی ، بی جے پی ، نیشنل کانفرنس ، کانگریس ، سی پی آئی ایم ، سی پی آئی ، نیشنل پینتھرس پارٹی ، ڈیموکریٹک پارٹی نیشنلسٹ ، پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ اور دیگر جماعتوں کو دعوت نامے ارسال کئے گئے ہیں تا کہ وادی میں حالات کو معمول پر لانے اور قیام امن کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ حتجاجی مظاہروں کی لہر پر قابو پانے کے لئے وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو کو بدستور جاری رکھا گیا ہے۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے تازہ بیان میں ریاست بھر میں 20جولائی بدھوار کو ’یوم سیاہ‘ اور 22 جولائی جمعتہ المبارک کو ’کشمیر ڈے‘ کے طور منانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
انہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ 21جولائی جمعرات کو دوپہر دو بجے تک مکمل ہڑتال رہے گی، جبکہ دو بجے کے بعد وقفہ رہے گااور 22جولائی جمعة المبارک کو مکمل ہڑتال، آر پار اور ساری دنیا میں اس دن کو ’کشمیر ڈے‘ کے طور منایا جائے گا۔ کشمیر انتظامیہ نے کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے بیشتر علیحدگی پسند لیڈران کو 9 جولائی سے مسلسل خانہ یا تھانہ نظربند رکھا ہے۔ مسلسل کرفیو کے باعث وادی کے بیشتر حصوں میں لوگوں کو اشیائے ضروریہ خاص طور پر دودھ، سبزیوں، ادویات اور روٹی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ امن وامان کی بحالی اور احتیاطی اقدامات کے طور پر کرفیو کو آج بھی جاری رکھا گیا ہے۔ کرفیو کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے ہزاروں ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں کو وادی بھر میں تعینات کیا گیا ہے۔ وادی میں کرفیو کے اطلاق کے حوالے سے ضلع مجسٹریٹوں کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی شہری یا گاڑی ماسوائے طبی ایمرجنسی کو کرفیو کے دوران چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ میڈیا پر قدغن کے باعث بدھ کو مسلسل پانچویں دن بھی وادی سے نکلنے والے اخبارات شائع نہ ہوسکے۔ یاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور ان کے صلاح کار امیتابھ متو نے گذشتہ روز دعویٰ کیا کہ وادی میں سرکاری طور پر اخبارات کی اشاعت پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ حکومتی ترجمان نے 16 جولائی کو کشمیر سے شائع ہونے والے اخبارات کے مدیران کو مطلع کیا تھا کہ وادی میں اگلے تین روز کے دوران (اتوار تا منگل) سنگین گڑبڑ (جس کا مقصد سرکاری ترجمان کے بقول امن وامان کو درہم برہم کرنا ہے) کے خدشے کے پیش نظر سخت ترین کرفیو نافذ رہے گا اور اخبار کے عملے کی نقل وحرکت اور اخبارات کی تقسیم ممکن نہیں ہو پائے گی۔ اخبارات کے مدیران نے حکومتی بیان کو ذہن میں رکھتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ایسی صورتحال میں اخبارات کی اشاعت ممکن نہیں ہوپائے گی۔ اس سے قبل ریاستی پولیس نے 15 اور 16 جولائی کی درمیانی شب کو بیشتر اخبارات کے چھاپہ خانوں پر چھاپے ڈالے تھے۔چھاپوں کے دوران نہ صرف اخبارات کی کاپیاں ضبط کی گئی تھیں بلکہ اِن میں کام کررہے ملازموں کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
دریں اثنا وادی میں موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل رکھا گیا ہے۔وادی کے ساتھ ساتھ جموں خطہ میں بھی انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل ہی رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس منگل کو بارہویں روز بھی معطل رہی۔ وادی کے تمام حصوں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی پرتشدد احتجاجی لہر کے پیش نظر 8 اور 9 جولائی کی درمیانی رات کو معطل کردی گئی تھی جبکہ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ فون سروس کو بھی معطل کردیا گیا تھا۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Army chief to take stock of situation in kashmir valley in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply