جنوبی کشمیر میں کرفیو کے باعث علیحدگی پسندوں کی ”اننت ناگ چلو‘ کال ناکام

سری نگر: کشمیر انتظامیہ نے پیر کو جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں گذشتہ سولہ دنوں سے عائد کرفیو میں مزید سختی برتتے ہوئے علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ’اننت ناگ چلو‘ کی کال کو ناکام بنادیا۔
دوسری جانب صوبائی دارالخلافہ سری نگر کے اندرونی شہر اور سول لائنز کے مائسمہ میں پیر کو مسلسل سترہویں روز بھی سخت ترین کرفیو جاری رہا جبکہ وادی کے جن علاقوں کو کرفیو سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے وہاں آج بھی مکمل ہڑتال کے باعث معمولات زندگی مفلوج رہے۔ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے 29 جولائی تک ہڑتال میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے 25جولائی کو حریت پسند قیادت اور وادی کے عوام خاص طور پر جنوبی کشمیر کے لوگوں کو اننت ناگ کے تاریخی لال چوک میں جمع ہوکر نماز ظہر کے موقع پر حالیہ مہلوکین کو اجتماعی طور پر خراج عقیدت ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔تاہم کشمیر انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں عائد کرفیو میں مزید سختی برتتے ہوئے علیحدگی پسند قیادت کے اس پروگرام کو ناکام بنادیا۔
کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے تقریباً تمام علیحدگی پسند لیڈران کو تھانہ یا خانہ نظربند رکھا گیا ہے۔ اگرچہ حریت کانفرنس (گ) چیئرمین مسٹر گیلانی نے اپنی خانہ نظر بندی توڑتے ہوئے اننت ناگ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تاہم وہاں پہلے سے تعینات ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں حراست میں لیکر پولیس تھانہ ہم ہامہ منتقل کیا۔
وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہانی وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے دوران جنوبی کشمیر سب سے زیادہ متاثرہ حصہ ثابت ہوا۔ وادی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تاحال 51 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ 41 ہلاکتیں جنوبی کشمیر میں ہوئی ہیں۔ اگرچہ کشمیر انتظامیہ نے ہفتہ کو مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی سری نگر آمد کے ساتھ ہی وادی کے چار اضلاع بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل اور بڈگام سے کرفیو ہٹانے کا اعلان کر دیاہم اِن اضلاع میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی جاری رکھی گئی ہے۔
علیحدگی پسند قیادت کی ’اننت ناگ چلو‘ مشترکہ کال کو ناکام بنانے کے لئے آج اننت ناگ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو خاردار تار سے بند کیا گیا تھا جبکہ سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اضافی افراد تعینات کر دیے تھے۔ پیر کو علی الصباح سے ہی جنوبی کشمیر کے بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں پولیس گاڑیوں پر نصب لاوڈ اسپیکروں کے ذریعے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا جارہا تھا۔ اگرچہ وادی میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی شدت میں کمی واقع ہورہی ہے، تاہم مساجد میں ہر نماز کے بعد آزادی کے ترانے و نعرے بلند کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جبکہ وادی کے مختلف حصوں سے شبانہ احتجاجوں کی اطلاعات مسلسل موصول ہورہی ہیں۔
دریں اثناوادی میں موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے اور لوگ ایک دوسرے کی سلامتی سے متعلقسخت تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ وادی کے ساتھ ساتھ جموں خطہ میں بھی انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل ہی رکھا گیا ہے۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس بھی گذشتہ سترہ روز سے بدستور معطل ہے۔(یو ا ین آئی)

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Anantnag chalo call foiled as curfew coninues in entire south kashmir in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply