مرکز کشمیر بحران کی جڑ تلاش کرکے مسئلہ حل کرے: فاروق عبداللہ

سری نگر: وادی کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ کے پارآشوب حالات میں ہزاروں عام شہریوں کے زخمی ہونے اور قیمتی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ بے چینی اور تناؤ میں ہر گزرتے دن میں ہورہے اضافے پر افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر و سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ نئی دلی اس بات کو تسلیم کرے کہ کشمیر میں بحران کی بنیاد 1953میں ہوئی وہ غلطی ہے جب جموں وکشمیر کے عوام کے جذبات اور احساسات کو دبانے کے لئے یہاں کے جمہوری طور منتخب وزیر اعظم کو غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی دل دکھانے والے بات ہے کہ چند مرکزی لیڈران، جو آج جموں وکشمیر کے سیاسی مسئلہ کی بات کررہے ہیں، اس وقت خاموش اور لاتعلق رہے جب 2010کے مرکزی مصالحت کاروں کی رپورٹ اور جسٹس صغیر کمیٹی رپورٹ بحث اور اطلاق کے لئے دستیاب تھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی میں بیٹھے مذکورہ مرکزی لیڈران جو آج مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی بات کررہے ہیں، ماضی میں اس مسئلہ پر رسمی ،روایتی اور آزمودہ طریقہ کار پر عمل پیرا رہے۔ ان لیڈران کا موجودہ موقف تسلی بخشی اور قابل ستائش ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ لیڈران اس وقت پیچھے ہٹ کر اپنی روایتی پالیسی اور طریقہ کار اختیار نہیں کریں گے جب اس مسئلے کا سیاسی حل کے ان کے لئے موزوں نہیں ہوگا۔
جموں وکشمیر خصوصاً وادی میں ہر ایک پارآشوب دور اور موجودہ بے چینی کشمیر یوں کے جذبات اور احساسات کو ایک طویل اور سوچے سمجھے طریقہ کار کے ذریعے ختم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ جو کچھ 9اگست 1953کو ہوا وہ آج بھی کشمیرکے عوام کو یاد دلاتا ہے کہ نئی دلی یہاں سیاسی جذبات کو قابو کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کرتی ہے یا پھر وقتی طور پر آگ بجھانے کی پالیسی اختیار کرتی ہے۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Address root cause of instability in kashmir farooq abdullah to centre in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply