کشمیر میں انتہاپسندوں اور سلامتی دستوں میں فائرنگ و آ تشزدگی ، معروف شاعر کا غیر مطبوعہ مجموعہ کلام جل کر راکھ

سری نگر: کشمیر کے ایک معروف شاعر 52سالہ غلام محمد بٹ اپنی 30سالہ محنت کو اس وقت اپنے پڑوسی کے گھر سے آگ میں جل کر راکھ ہوتا دیکھ کر خون کے آنسو بہاتا رہا جب جموں و کشمیر کے بلہاما گاؤں میں انتہاپسندوں اور سلامتی دستوں کے درمیان دو روز تک ہونے والے فائرنگ کے تبادلہ کے دوران اس کے مکان میں آگ لگ گئی اور وہاں رکھا اس کے شعروں کا مجوعہ بھی ،جو اس کے گذشتہ 30سال کے دوران کہے گئے اشعار اور غزلوں پر مشتمل تھا، ا س آگ کی نذر ہو گیا۔
ان میں سے زیادہ تر غیر مطبوعہ تھے۔ سری نگر سے تقریباً 20کلومیٹر دوری پر واقع بلہامہ گاؤں مجموعی طور پر ایک پر سکون گاؤں ہے اور وہان کبھی بندوق کی گولیوں کی تڑتڑاہٹ نہیں سنائی دی۔15مارچ کو بھٹ اپنی بیوی کے ساتھ گھر کے لان میں بندھی اپنی گایوں کو پانی پلا رہے تھے کہ تین نوجوان انتہاپسند بھاگتے ہوئے آئے ا ور ان کے گھر میں دبک گئے اور پھنس گئے۔
جس کے بعد دونں جانب سے فائرنگ شرو ع ہو گئی۔انہوں نے فرار ہونے کیکوشش کی لیکن فوج علاقہ کا محاصرہ کر چکی تھی۔ ان لڑکوں نے معافی مانگتے ہوئے مجھ سے کہا کہ وہ گھر سے چلے جائیں۔ وہ وہاں سے پڑوسی کے گھر منتقل ہو گئے اور ان کے گھر میں آگ لگ گئی۔ جس میں ان کی تیس سالہ شاعری بھی بھسم ہو گئی۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A kashmiri poet loses 30 years of work in gun battle in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply