آر ایس ایس کایوگی کو کیرل کے دورے پر بھیجنے کا مقصد ان کو قومی سطح پر ابھارنا ہے

لکھنو : (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک ایسی سمجھی حکمت عملی کے تحت پارٹی صدر امت شاہ کی ’جن رکشا یاترا‘ میں شامل ہونے کے لئے کیرالہ بھیجا ہے۔ بی جے پی کے اعلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ مسٹر یوگی کو قومی سطح پر ابھارنا چاہتا ہے۔ بی جے پی انہیں کیرالہ بھیجنے سے پہلے بنگال، بہار، مدھیہ پردیش، ہریانہ میں مختلف پروگراموں میں بھیج چکی ہے۔اڑیسہ اسمبلی انتخابات میں انکے کئی پروگرام ہونے والے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی علاقہ میں یوگی کو پہچان کی ضرورت نہیں ہے۔ جنوب میں ان کے لباس اور ہندوتوکی سوچ مسٹر یوگی کو پہچان دلا دے گی۔ سنگھ کا خیال ہے کہ مسٹر یوگی کو پورے ملک میں بھیجا جائے تاکہ ان کی پہچان شمالی ہندستان تک محدود نہ رہ جائے۔ مسٹر یوگی کیرالہ کے کنور میں مسٹر شاہ کی جن رکشا یاترا میں شامل ہونے گئے ہیں۔ وہاں انہوں نے کیرالہ کی لیفٹ حکومت کو سیاسی قتل کے لئے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوسش کی ہے۔ سنگھ کا دعویٰ ہے کہ ان کے جار حانہ رخ کی وجہ سے کیرالہ کا ایک بڑا طبقہ متاثر ہوسکتا ہے۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ نے کیرالہ میں کہا کہ سیاسی تحفظ میں قتل ہورہے ہیں۔
بی جے پی نے ان قتل کے خلاف لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے یہ یاترانکالی ہے۔ یاترا کے ذریعہ کیرالہ کے باشندوں کو تحفظ ملے گا۔ تشدد کو فروغ دینے والی حکومتوں کا صفایا ہوگا کیونکہ جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار اور سنگھ کی معلومات رکھنے والے ڈاکٹر دلیپ اگنی ہوتری نے کہاکہ مسٹر یوگی کے لباس سے ہی ہندوتو کا پیغام جاتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سنگھ نے جنوب میں بھی ہندوتو کا پرچم لہرانے کے لئے مسٹر یوگی کی اس علاقہ میں سیاسی یاترا کی شروعات کیرالہ سے کرائی ہے۔ ڈاکٹر اگنی ہوتری کے مطابق بجرنگ دل کے بانی صدر ونے کٹیار جیسے لیڈروں کی دھار وقت کے ساتھ مند ہورہی ہے۔ اس لئے سنگھ یوگی کو آگے بڑھاناچاہتا ہے تاکہ ہندوتو کو پورے ملک میں مضبوطی کے ساتھ پھیلایا جاسکے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Yogi in kerala in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
Tags: ,

Leave a Reply