ہاں میرے بیٹے کا قتل ہوا ہے، لیکن اس کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے۔انکت سکسینہ کے والد کی استدعا

نئی دہلی: مسلم گرل فرینڈ کے کنبہ والوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 23سالہ فوٹو گرافرانکت سکسینہ کے والد نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کے قتل کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے اور نہ ہی اسے تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
اپنے بیٹے کے بہیمانہ قتل کے باوجو د یشپال سکسینہ نے ہوش و حواس برقرار رکھنے کی استدعا کی۔انہوں نے کہا کہ وہ کسی اشتعال انگیز تقریروں کے حق میں نہیں ہیں۔
جو کچھ ہوا اس کا انہیں نہایت صدمہ ہے لیکن وہ نہیں چاہتے کہ کوئی اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے خلاف معاندانہ ماحول بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دل میں کسی مذہب کے خلاف کچھ نہیں ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Yes my son was killed dont link it to religion ankit saxenas father in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply