بیوی منقولہ جائیداد نہیں ہے: سپریم کورٹ

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم میں کہا ہے کہ بیوی ’منقولہ جاگیر“ یا شے نہیں ہے اور ساتھ رہنے کی خواہش کے باوجود آپ اس کے ساتھ رہنے کا دباؤ نہیں ڈال سکتے۔
ایک خاتون کی جانب سے شوہر پر مظالم ڈھانے کا الزام لگاتے ہوئے دائر کیے گئے مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ رولنگ دی ہے۔ اس خاتون نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ اس کا شوہر چاہتا ہے وہ اس کے ساتھ رہے لیکن وہ خود اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہے۔
جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل دو ججی بنچ نے اس خاتون کے شوہر سے کہا کہ اس کی بیوی ایک منقولہ جائیداد نہیں ہے او ر اگر وہ آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو آپ اسے اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔مدعا علیہ کے وکیل نے عدالت سے جب اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کی استدعاکی تو عدالت نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ آپ خود اس پر نظر ثانی کریں ۔
بنچ نے مدعا علیہ سے یہ بھی کہا کہ آپ اتنا غیر ذمہ دار کیسے ہوسکتے ہیں کہ ایک خاتون کے ساتھ منقولہ جائیداد کی طرح سلوک کر رہے ہیں ۔وہ کوئی شے نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے معاملہ کی سماعت8 اگست تک موخر کر دی۔

Title: wife is not a chattel man cant force her to reside with him sc | In Category: ہندوستان  ( india )
Tags: , , , ,

Leave a Reply