ذاکر نائک کے خلاف اتنا ہنگامہ اب کیوں،پہلے کیوں نہیں؟ سعید نقوی

نئی دہلی: معروف صحافی اور بین الاقوامی امور کے ماہرسعید نقوی نے متنازع اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذاکر نائیک کی سرگرمیوں کا بہت پہلے ہی نوٹس لیا جانا چاہئے تھا لیکن ان کی آئیڈیالوجی پر نکیل کسنے کی اچانک ضرورت دراصل اس لئے پیش آگئی کیونکہ اس طرح کی سرگرمیوں کی مالی مدد کرنے والے سعودی عرب کی اب امریکہ کی نظر میں وہ اہمیت نہیں رہی جا کبھی تھی۔
سعید نقوی کا کہنا ہے کہ آج امریکہ کی توجہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو قابو میں کرنے کے بجائے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی طرف زیادہ ہے اس لئے سعودی عرب بھی اب اس کی ترجیحی فہرست میں اتنی اہمیت کا حامل نہیں رہ گیا ہے جتنا کبھی ہوا کرتا تھا۔
مسٹر نقوی نے اپنی کتاب ”Being the Other: The Muslim in India “ کے اجرا کے موقع پر یو این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ” یہی سبب ہے کہ یہاں ہندوستان میں ہم امریکہ کی طرف سے ایک اشارہ پاتے ہی سعودی عرب کی مالی امداد سے سرگرم اسلامی بنیاد پرستی کو فروغ دینے والوں کے خلاف حرکت میں آگئے حالانکہ اس وقت تک بہت تاخیر ہوچکی تھی اور جو نقصان ہونا تھا وہ تو بہت پہلے ہوچکا تھا۔
مسٹر نقوی نے سوال کیا کہ آخر ڈاکٹر ذاکر نائک جیسے لوگوں کے خلاف اب اتنا شورشرابہ کیوں مچایا جارہا ہے جب کہ یہ لوگ بہت پہلے سے اپنی سرگرمیاں چلا رہے ہیں اور سعودی عرب کی طرف سے انہیں مالی مدد ملتی رہی ہے۔ اس کے باوجود ماضی میں حکومتوں نے ان کے خلاف کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا۔
مسٹر نقوی نے متنبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کچھ طاقتیں اب ہندوستان میں ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Why hue and cry about zakir naik now not earlier saeed naqvi in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply