سردار پٹیل نے گاندھی جی کے قتل کے تین دن بعد ہی آر ایس ایس پر پابندی کیوں لگائی تھی ؟جے ڈی یو

نئی دہلی:جنتا دل یونائیٹڈ نے کہا ہے کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ سداشیو گولوالکر اور جن سنگھ کے صدر شیاما پرساد مکرجی کو خط لکھ کر آر ایس ایس اور ہندوسبھا پر تنقید کی تھی اور کہا تھا ان تنظیموں نے معاشرے میں فرقہ واریت کا ایسا زہر گھولا جس کی وجہ سے گاندھی جی شہید ہوئے تھے۔
پارٹی کے ترجمان کے سی تیاگی نے کہا کہ ناتھورام گوڈ سے آر ایس ایس کے رضاکار تھے اور آر ایس ایس کی طرف سے فرقہ وارانہ زہر پھیلانے کی وجہ سے ہی پٹیل نے آریس ایس پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن آج کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے معاملے میں یہ الجھن پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آر ایس ایس یاہندو مہا سبھا کا اس میں کوئی ہاتھ ہی نہیں تھا۔ مسٹر تیاگی نے کہا کہ راہل گاندھی نے عدالت میں کیا کہا اور اس کے باہر کیا کہا وہ اس تنازع میں جانا نہیں چاہتے کیونکہ یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ پٹیل نے گاندھی جی کے قتل کے تین دن بعد ہی 4 فروری 1948 کو آر ایس ایس پر پابندی عائد کر دی تھی۔
پٹیل نے 19 ستمبر 1948 کو سداشیو گولوالکر کو لکھے خط میں صاف لکھا تھاکہ ہندوؤں کی مدد کرنا تنظیم کے لئے ایک بات ہے مگر ان کی مصیبتوں کا بدلہ نہتے اور لاچار عورتوں، بچوں اور آدمیوں سے لینا دوسری بات ہے۔ ان کی ساری تقریریں فرقہ وارانہ منافرت سے بھری تھیں۔ ہندوؤں میں جوش پیدا کرنا اور ان کی حفاظت کے لئے یہ ضروری نہیں تھا کہ ایسا زہر پھیلایا جائے۔ اس زہر کا پھل آخر میں یہی ہوا کہ گاندھی جی کی قیمتی قربانی ملک کو برداشت کرنی پڑی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Why did sardar vallabhbhai patel seek a ban on rashtriya in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply