دو بالغوں کو شادی سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں: سپریم کورٹ

نئی دہلی: ناموس کے نام پر قتل پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ جب دو بالغ شادی کر رہے ہوں تو کسی کواسے روکنے یا اس میں دخل اندازی کا حق نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ خواہ وہ والدین ہوں، معاشرہ ہو یا فرد وہ سب اس معاملہ سے باہر ہیں ۔ کوئی بھی انفرادی ہو یا اجتماعی یا گروہ اس میں دخل دینے کا مجاز نہیں ہے۔
سپریم کورٹ ایک غیر منفعت بخش نظیم شکتی واہنی کی اس عذر داری پر یہ بات کہہ رہی تھی جس میں ناموس کے نام پر قتل اورشمالی ہند خاص طور پر ہریانہ میں کھاپ پنچایتوں یا خود تشکیل کردہ دیہی عدالتوں پر، جو قرون وسطیٰ کے رسم و رواج کا تحفظ اور خاندان کی مرضی کے بغیر شادی کرنے والوںکو سزا دینے کے لیے خود ہی قانون اور خود ہی منصف بن جانے جیسے فعل پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے مدعا علیہہ کی ایک دلیل کے جواب میںکہا کہ عدالت کو کھاپ پنچایت سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔عدالت کا صرف ایک جوڑے کے ازدواجی حقوق کے معاملہ سے تعلق ہے۔سپریم کورٹ کی سماعت حسن اتفاق سے ایسے وقت میں ہوئی جب مغربی دہلی کے خیالہ علاقہ میں ایک مسلم لڑکی کے گھر والوں نے اس کے عشق میں مبتلا ایک23سالہ ہندو لڑکے کا گلا کاٹ دیا۔
جب سپریم کورٹ کے نوٹس مٰن یہ کیس بھی لایا گیا تو چیف جسٹس نے فوراً کہا کہ اس معاملہ کا کوئی ذکر نہ کیا جائے یہ کیس ہمارے زیر سماعت نہیں ہے۔

Title: when 2 adults get married no one can interfere chief justice | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply