علمائے وقت خود کو عصری دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں

حیدرآباد: علوم اسلامیہ کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ حیدرآبادکے جلسہ تقسیم اسناد وعطائے خلعت اوربانی جامعہ نظامیہ حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی کے عرس شریف کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ مولانا مفتی خلیل احمد سمیت تمام مقررین نے کہا کہ سائنس اور مادیت کی ترقی نے زمانہ کو ایک نئے رخ پر لاکرکھڑا کیا ہے‘ جس کے نتیجہ میں اقوام عالم ‘ہدایت سے مسلسل دور ہوتے جارہے ہیں‘ ان حالات میں دینی علوم کے ماہرین کیلئے ضروری ہے کہ وہ عصر حاضر کے چیلنجس سے ہم آہنگ ہوں۔
علماءپر لازم ہے کہ وہ علوم دینیہ کے ساتھ مختلف زبانیں ، فنون اور ہنر سیکھیں اس سے دونوں جہاں یعنی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی اور اسلام کے پیغام کو صحیح طور پر پیش کیا جاسکے گا۔نیز جامعہ نظامیہ عصر حاضر میں علوم اسلامیہ کے فروغ کے سلسلہ میں ذمہ دارانہ کردار ادا کررہا ہے‘ جس کا نتیجہ ہے کہ سال حال امتحانات میں 6473 طلباء وطالبات نے شرکت کی۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ نظامیہ و سجادہ نشین حضرت شاہ خاموش نے صدارت کی۔
مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ نے حدیث پاک کے حوالہ سے کہا کہ سب سے بہترین انسان وہ ہے جس سے دوسروں کو فائدہ پہونچے۔ فائدہ کئی طرح کا ہوسکتا ہے لیکن بہترین فائدہ یہ ہے کہ علم کا اثاثہ چھوڑا جائے تو اس سے قوم کو خود بخود فائدہ ہوتا ہے۔ بانی جامعہ نے 146 برس قبل جو علمی پودا لگایا تھا آج اس کے بہتر ثمر برآمد ہورہے ہیں۔ اس طویل سفر کے دوران اس جامعہ سے ہزاروں علماء فارغ ہو کر دنیا بھر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Title: urs hazrat hafiz m anwarullah farooqi | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply