یوپی انتخابات کے دوسرے مرحلہ کی پولنگ میں مسلمان کلیدی کردار ادا کریں گے

لکھنؤ :مغربی اترپردیش کے کچھ حصوں اور روہیل کھنڈ خطہ میں 15 فروری کو اسمبلی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے یہاں تمام 67 حلقوں میں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں مسلمانوں کا کلیدی رول رہے گا۔ ان میں بی جے پی بھی شامل ہے۔ سماج وادی پارٹی ، کانگریس اتحاد اور بی ایس پی اور کئی حصوں میں آر ایل ڈی اقلیتی ووٹوں کے اپنے حق میں اکٹھا ہونے کی امید کررہے ہیں مگر دوسری طرف بی جے پی ہے جو اس اہم ووٹ ملک کے تقسیم ہونے کی توقع کررہی ہے۔ اس خطہ میں مسلم آبادی بہت زیادہ ہے کئی حلقوں میں 50 فی صد آبادی مسلم ہے اس لئے ان کا ووٹنگ کا رجحان فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ 11 ضلعوں کے تمام 67 حلقوں میں دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔اس مرحلے میں امروہہ۔ مرادآباد۔ رامپور۔ بریلی بجنور اور سہارن پور اضلاع میں ووٹ ڈالے جائیں گے جہاں کئی حلقوں میں مسلم آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس مرحلے میں جن دیگر اضلاع میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں وہ سنبھل۔ بدایوں۔ شاہجہاں پور۔ پیلی بھیت اور کھیری ہیں۔ آبادی کے تناسب کی حقیقت کو نظر میں رکھتے ہوئے غیر بی جے پی جماعتیں خاص طور سے اقلیتی حکمت عملی پر انحصار کررہی ہیں۔
بہوجن سماج پارٹی نے جہاں 26 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ کانگریس۔ سماجوادی اتحاد نے 25 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے۔ راشٹریہ لوک دل کے بھی اس فرقہ سے 13 امیدوار ہیں۔ اقلیتی ووٹ کے لئے دوڑ اس وجہ سے زیادہ دلچسپ ہوگئی ہے کیونکہ ایسی 15 سیٹوں پر بی ایس پی اور ایس پی۔ کانگریس اتحاد دونوں نے اور بعض جگہ آر ایل ڈی نے بھی مسلمانوں کو ٹکٹ دیئے ہیں۔امروہہ میں تینوں نے ہی مسلم امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ دیوبند میں بہوجن سماج کے ماجد علی کا مقابلہ سماج وادی کے معاویہ علی سے ہوگا۔ مراد ا?باد کے حساس کنٹھ حلقے میں سماج وادی پارٹی کے انیس الرحمان ، آر ایل ڈ ی کے اشفاق علی خان اور کانگریس کے محمد ناصر آمنے سامنے ہیں۔ اسی ضلع میں کندار کی مراد آباد شہر ، مراد آباد ( دیہی) حلقوں کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔ رامپور میں سماج وادی پارٹی کے طاقتور لیڈر اور وزیر محمد اعظم خان کو بہوجن سماج پارٹی کے تنویر احمد خان اور آر ایل ڈی کے عاصم خان چیلنج دے رہے ہیں۔ سوار حلقہ میں اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم بی ایس پی کے نواب کاظم علی خان کے خلا ف اپنا پہلا چناو¿ لڑرہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی اقلیتی ووٹ بینک کے تقسیم ہونے کی امید کرے گی کیونکہ ووٹ بٹنے کا سیدھا فائدہ اس کو ہوگا۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 67 میں سے 10 حلقوں میں جیت حاصل کی تھی۔ سماج وادی پارٹی نے 34 سیٹیں اور بی ایس پی نے 18 سیٹیں جیتی تھیں۔ کانگریس کو تین سیٹیں ملی تھیں۔
تاہم 2014 کے لوک سبھا چناو¿ میں بی جے پی نے ان اسمبلی حلقوں میں سے بیشتر میں دیگر پارٹیوں کا صفایا کردیا تھا۔ حالانکہ اقلیتی فرقہ نے اس وقت میں بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ مگر اکثریتی فرقہ کے جواباً متحد ہونےاور اقلیتی ووٹ بینک کے منشتر ہونے سے بی جے پی کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا بی ایس پی اور ایس پی کانگریس اتحاد کے اقلیتی کارڈ کی وجہ سے ایک حد تک اکثریتی ووٹ بی جے پی کے حق میں اکٹھا ہوجائے گا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ مظفر نگر فسادات کے بعد 2014 میں جس طرح فرقہ ا?پس میں بٹ گئے تھے اس طرح کی صورتحال اس مرتبہ نہیں ہے۔ گو بہوجن سماج کے لئے مسلم- دلت فارمولہ کی آزمائش ہوگی ، سماج وادی- کانگریس اتحاد اپنے اس ٹھوس ریکارڈ پر انحصار کررہی ہے کہ اس نے کبھی بی جے پی سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ بی جے پی کو حالانکہ کئی علاقوں میں جاٹ ووٹوں کے بٹنے سے نقصان ہوگا مگر وہ اس بات کی امید کررہی ہے کہ اقلیتی فرقہ کیونکہ ابہام میں مبتلا ہے اور اس کاووٹ بنک منقسم ہے اس کا یقینی فائدہ اسے پہنچے گا۔ دوسرے اکثریتی فرقہ کے اکٹھا ہونے سے تو اسے ووٹ ملیں گے ہی۔ اگر پہلے مرحلے کی پولنگ کوئی اشارہ ہے تو اقلیتی فرقہ میں یقینی طور سے کوئی کنفیوژن نہیں ہے کہ وہ بہوجن سماج اور ایس پی کانگریس اتحاد میں سے کسے چنے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Up polls muslims hold key to 2nd phase on feb 15 in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply