عمر خالد اور انیربن کی خود سپردگی، افضل گورو کی موافقت میں تقریر کرنے کا اعتراف

نئی دہلی:بغاوت کے الزام میں ماخوذ جے اینیو کے پانچ طلبا میں سے دو عمر خالد اور انیربن بھٹاچاریہ نے عبوری تحفظ دیے سے دہلی ہائی کورٹ کے انکارکے کچھ گھنٹے بعد منگل کی شب 10بج کر 43منٹ پر خود کو پولس کے حوالے کر دیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں طلبا انیربن اور عمر خالد تفتیش میں پولس سے تعاون کر رہے ہیں اور انہوں نے پولس کو یہ بھی بتا دیا کہ وہ کہاں روپوش تھے نیز انہوں نے 2001میں پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں پھانسی پانے والے افضل گورو کی حمایت میں تقریر کرنے کا بھی اعتراف کر لیا۔ 12فروری سے لاپتہ رہنے کے بعد اتوار کو یونیورسٹی کیمپس میں اچانک نظر آنے والے یہ دونوں طلبا اینڈمنسٹریٹیو بلاک سے یونیورسٹی کے صدر دروازے سے باہر نکلے اور دہلی پولس کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ پولس انہیں کسی نامعلوم مقام پر لے کر چلی گئی۔ گذشتہ شب ان دونوں سے پولس نے5گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی ۔دونوں طلبا کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا۔لیکن پولس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ان دونوں کو کہاں لے جایا گیا یا ان سے کہاں تفتیش کی گئی۔خالد اور بھٹاچاریہ ان پانچ طلبا میں شامل ہیں جنہوں نے افضل گورو کی برسی کے موقع پر 9فروری کو ایک جلسہ میں جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کے ساتھ مبینہ طور پرملک مخالف نعرے لگائے تھے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Two jnu students accept speaking in favour of afzal guru in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply