بھارت بند کا ممبئی اور دہلی پر جزوی اثر،کیرل اور کرناٹک سب سے زیادہ متاثر

نئی دہلی: ملک میں تقریباً 21 کروڑ محنت کش اپنے 12 نکاتی مطالبات کی حمایت میں اور نریندر مودی حکومت کی مبینہ مزدور مخالف پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف آج ایک روزہ ملک گیر ہڑتال پر ہیں۔ تاہم دہلی اور ممبئی میں اس ہڑتال کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔کہی کہیں مزدوروں کو مظاہرے کرتے دیکھا گیا۔ ملک کی 10 بڑی مزدور یونینوں کی اس ہڑتال سے لازمی خدمات کو بری رکھا گیا ہے۔ بینک، انشورنس، ڈاک، ٹرانسپورٹ، بازار، کانکنی کی صنعت اور کچھ دیگر سیکٹروں پر ہڑتال کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔
صبح سے ہی جگہ جگہ مزدور جلوس نکال رہے ہیں۔ حالانکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت یافتہ ’بھارتیہ مزدور سنگھ‘ نے ہڑتال سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (اے آئی ٹی یو سی) اور سنٹر فار ٹریڈ یونین (سیٹو) نے کہاکہ حکومت ان کی مانگوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ٹریڈ یونین 40 ملازمین والے کارخانوں کو محنت کشوں سے متعلق قوانین سے باہر رکھنے کی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ملک کی سیکورٹی کو خطرہ ہونے کی بنیاد پر خصوصاً فرماسیوٹیکل، ریلوے اور دفاع کے سیکٹروں میں غیرملکی سرمایہ کاری کی بھی مخالفت کی ہے۔
دہلی میں مزدور تنظیموں نے جنتر منتر پر مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ سیٹو کے جنرل سکریٹری تپن کمار سین اور دیگر مزدور لیڈروں نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ ان لیڈروں نے کہاکہ جب تک مزدور مخالف پالیسیوں کو حکومت جاری رکھتی ہے تب تک مخالفت جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت جارحانہ طریقوں سے اقتصادی اصلاحات کو نافذ کر رہی ہے اور ان سے محنت کشوں کے مفادات پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ مزدور یونین کے مطالبات میں ہر مزدور کے لئے کم از کم 18 ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ اور تین ہزار روپے ماہانہ پنشن نیز این ڈی اے حکومت کے تجویز کردہ لیبر قوانین کی بعض ترامیم کو منسوخ کیا جانا شامل ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Trade union strike shuts kerala low impact in delhi mumbai in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply