چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف سپریم کورٹ کے ججوں کا علم بغاوت، جمہوریت عدلیہ کی آزادی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا کے چار ججوں نے عدلیہ کی آزادی اور عدالت کی انتظامی خامیوں کے حوالے سے ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کر کے چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کو ہدف تنقید بنایا۔
اس پریس کانفرنس کے فوراً بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اس معاملہ پر فی الفور تبادلہ خیال کرنے کے لیے وزیر قانون روی شنکر پرساد کو طلب کر لیا۔
میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس چیلامیسوار نے کہا کہ وہ اور ان کے تین دیگر ساتھی ججز جسٹس کوریان جوزف، جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس مدن لوکور نے چیف جسٹس کو عدلیہ کی آزادی کے حوالے ایک دستخط شدہ مکتوب ارسال کیا تھا لیکن انہوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان سب نے چیف جسٹس کو قائل کر نے کی کوشش کی کہ عدلیہ میں بد نظمی ہے اور ان کا تدارک ضروری ہے۔لیکن بدقسمتی سے انکی کوششیں رائیگاں گئیں۔ جسٹس چیلا میسورا نے مزید کہا کہ اگر ان خامیوںکو دور کرنے کے اقدامات نہ کیے گئے توہندوستان کیا کسی بھی ملک میں جمہوریت زندہ نہیں رہ سکتی۔
اس کے بعد جاری کیے گئے مکتوب میں ججوں نے الزام لگایا کہ اکثر و بیشتر ضابطوں کو پس پشت ڈال کر پسند ناپسند کی بنیاد پر مقدمات ججوں کو دیے جاتے ہیں اور کئی مقدمات جن کے دوررس نتائج مرتب ہوتے ہیں، من پسند بنچوں کو دے دیے جاتے ہیں۔جس سے عدالت عظمیٰ کی دیانتداری مشکوک ہوجاتی ہے۔
یہ معلوم کیے جانے پر کہ کیا وہ چیف جسٹس آف انڈیا کا مواخذہ کرنا چاہتے ہیں ان ججوں نے کہا کہ ان کا یہ مقصد نہیں ہے اس کا فیصلہ ملک کرے گا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Top sc judges take on chief justice of india in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply