حیدرآباد میں کمسن بچیوں کا بوڑھے عربوں سے نکاح متعہ معاملہ میں مزید 3عمانی باشندے گرفتار

حیدرآباد: خلیجی ممالک کے معمر عرب شہریوں سے شہر حیدرآباد کی کمسن لڑکیوں کا نکاح متعہ کے معاملہ میں مزید تین عمانی شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار شدگان میں دو مقامی باشندے بشمول ایک چیف قاضی بھی شامل ہیں۔ 70سالہ عمانی شہری الشیاضی سلیمان ،جس نے پولس کے سامنے دعویٰ کیا تھاکہ وہ بغرض علاج حیدرآباد آیا تھا،در حقیقت شادی کرنے آیا تھا اور وہ کمسن بچیوں کی تلاش کر رہا تھا۔ اور اسے کمسن بچیاں دکھائی جا رہی تھیں۔اسے عمان کا رہائشی ایک دلال جس کا نام محمد خلفان ہے سلیمان کو اس کی شادی کرانے حیدرآبا لایا تھا۔
پولس نکاح متعہ کرانے کے الزام میں گرفتار قاضی علی عبداللہ رفاعی سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے تاکہ کم عمر لڑکیوں کی معمر عرب شہریوں سے شادیوں کے نیٹ ورک اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکے۔رفاعی کو کل رات دیر گئے پولیس نے حراست میں لیا تھا۔گزشتہ ہفتہ عرب شہریوں کے علاوہ ممبئی کے صدر قاضی اور مقامی دلالوں کی گرفتاری کے دوران عبداللہ رفاعی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔پولیس نے کل رات دیر گئے فلک نما،چندرائن گٹہ ،تالاب کٹہ کے علاقوں میں مختلف قاضیوں کے مکانات کی ایک ساتھ تلاشی لی اور علی عبداللہ رفاعی کے ساتھ ساتھ دیگر بروکرس اور عرب شہریوں کو بھی حراست میں لے لیا۔
ڈی سی پی وی ستیہ نارائنا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رفاعی کے خلاف پی ڈی ایکٹ لگایا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ رفاعی کے پاس سے نکاح متعہکے اہم دستاویزات بھی پولیس نے ضبط کرلئے ہیں۔چندرائن گٹہ کے انسپکٹر نے کہا کہ قاضی نکاح متعہ میں ملوث تھے۔انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کے غریب افرا د سے بروکر رابطہ کرتے ہوئے ان معمر عرب شہریوں سے ان غریب لڑکیوں کی شادی کرواتے تھے جس کے لئے ان غریب خاندانوں کو کثیر رقم دی جاتی تھی۔

Title: three more oman nationals in police net in contract marriage case | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply