میری حکومت ملک سے غریبی کا خاتمہ کرنے پر کمر بستہ،ہرممکن ٹھوس اقدام کر نے میں مصروف: وزیر اعظم

نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ وہ غریبوں کے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس راہ میں چاہے کتنی بھی رکاوٹیں آئیں وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نے لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت غریبوں کی حکومت ہے وہ غریبوں کے مفادات کے لئے کام کر رہی ہے۔ حکومت ایسے ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے جس سے ملک سے غربت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا طبقہ ہے جو غریبوں کے حق کو لوٹ رہا ہے اس لئے ملک اونچائی پر نہیں پہنچ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے ملک کا غریب اوپر نہیں اٹھ رہا ہے۔ یہ کلاس اب بھی غریبوں کو لوٹ رہا ہے لیکن اس طبقے کے لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ غریب کو لوٹنے کی چھوٹ اب اسے نہیں دی جا سکتی۔ مسٹر مودی نے کہا کہ آپ چاہے کتنے ہی بڑے آدمی ہیں لیکن غریب کا آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے اسے تو ہر حال میں غریب کو لوٹانا ہی پڑے گا۔ غریب ملک کی افرادی قوت ہیں اور اسی عوامی طاقت کی وجہ سے غریب خاندان میں پیدا ہونے والا شخص بھی ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ نوٹ کی منسوخی کے اپنے فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صاف ہندوستان کی طرح ہی ملک کی معیشت کو بھی صاف ستھرا بنانے کی یہ ایک بڑی مہم ہے جسے صحیح وقت پر شروع کی گئی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ملک میں نقدی کی لین دین کی وجہ سے کالے دھن کی ایک متوازی معیشت پھل پھول چکی تھی۔ اس کامکڑ جال ایسا تھا کہ وسائل کی کمی نہ ہونے کے باوجود غریبوں کو ان کا حق نہیں مل رہا تھا۔ اقتصادی خوشحالی کا فائدہ چند لوگ اٹھا رہے تھے۔
وہی غریبوں کا حق چھین رہے تھے۔ کالا دھن ملک کے ساتھ ہی بیرون ملک میں بھی جمع ہو رہا تھا۔ اس چلن کو کہیں تو بند کرنا تھا کسی کو تو آگے آنا تھا اس لئے انہوں نے اس کی پہل کی۔ وزیر اعظم نے نوٹ کی منسوخی کے وقت کے سلسلے میں اپوزیشن کے الزامات پر کہا کہ نوٹ کی منسوخی بغیر سوچے سمجھے کیا گیا فیصلہ نہیں تھا۔ یہ اس وقت کیا گیا جب معیشت درست تھی اور انہیں یہ پتہ تھا کہ یہ نوٹ کی منسوخی کے اثرات کو جھیل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر معیشت کمزور ہوتی تو وہ یہ قدم نہیں اٹھاتے۔ انہوں نے اس ضمن میں ڈاکٹر اور مریض کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ڈاکٹر اس وقت تک آپریشن کے لئے تیار نہیںہوتا جب تک مریض کا جسم اس کا سامنا کرنے کے قابل نہ ہو۔ انہوں نے اس پر اپوزیشن ارکان کے تبصرہ پر کہا ”میںکوئی بھی کام جلد بازی میں نہیں کرتا۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے آپ کو مودی کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کرنے کے لئے نومبر کا مہینہ انہوں نے اس لئے منتخب کیا کیونکہ ملک میں پورے سال میں جتنا کاروبار ہوتا ہے اس کا 50 فیصد کاروبار صرف دیوالی اور اس کے آس پاس ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد کاروبار کچھ دنوں کے لئے ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ ایسے میں نومبر کا مہینہ نوٹوں کی منسوخی کے لئے سب سے مناسب تھا۔ سب کچھ دیکھ سمجھ کر صحیح حساب کتاب سے کیا گیا۔ انہوں نے نوٹوں کی منسوخی پر بحث نہیں کرائے جانے کے حزب اختلاف کے الزام پر چٹکی لیتے ہوئے کہا ‘ہماری حکومت تو پہلے دن سے ہی اس پر بحث کے لئے تیار تھی لیکن’ آپ لوگ تب ٹی وی بائٹ دینے میں لگے رہے۔آپ نے سوچا بحث ہوئی تو مودی کو فائدہ ہو جائے گا۔ ‘اب اس پر ہنگامہ کر رہے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی سے ملک کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں مئی 2014کے وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہر طرف سے بس یہی آواز آتی تھی ‘ٹو جی میں کتنا گیا، آسمان میں ہوئی بدعنوانی میں کتنا گیا، زمین پر ہوئی بدعنوانی میں کتنا گیا۔ آج آواز آتی ہے مودی جی کتنا لائے۔ ‘مودی جی کے اس تبصرے پر ایوان حکمراں گروپ کے اراکین کے قہقہوں سے گونج اٹھا۔

Title: this government is for the poor says pm | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply